Friday, 03 November, 2006, 13:15 GMT 18:15 PST
روجوتا پراڈکر
بنگلور
جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک اپنی تشکیل کی پچاسویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ریاست کی گولڈن جوبلی کے اس موقع پر دارالحکومت بنگلور کا نام بدل کر بنگالورو کر دیا گیا ہے۔
کرناٹک کی پچاسوی سالگرہ ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب خود اپنی ریاست میں کرناٹک کے عوام کے مفاد کے تحفظ کے لیے کرناٹک کی شناخت پر زور دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ریاست کے تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور سیاسی استقلال میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بجائے کوئی جامع قدم اٹھانے کے اس کی جگہ حکومت نے کچھ شہروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے مرکز بنگلور کے نام کی تبدیلی اس فہرست میں شامل ناموں کا محض ایک حصہ ہے جسے تبدیل کیا جانا ہے ۔ کرناٹک کی حکومت نے کم از کم گیارہ شہروں اور قصبوں کے موجودہ نام کنڑ تلفظ کی مناسبت سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیاستدانوں اور مورخین کا دباؤ |
کنڑ ادب کے اننت مورتی جیسے سرکردہ ادیبوں کا کہنا ہے کہ شہروں و قصبوں کے پرانے نام بحال کیے جانے چاہیں۔ ’ہم شہروں کی کنڑ شناخت اور تلفظ کی بحالی چاہتے ہیں۔ اس کا مقصد کنڑ شناخت کو برقرار رکھنا ہے‘۔
![]() | |
| ہنددستان میں آئی ٹی انڈسٹری اور بنگلور شہر لازم و ملزوم ہیں۔ حکومت کو نام بدلنے کے بجائے اپنی پالیسییاں بدلنی چاہیے۔ |
بنگلور شہر اب ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی آئی ٹی کمپنیوں کا مرکز ہے اور اسے دنیا میں ہندوستان کی ’سلیکن ویلی‘ کے طور پر جا نا جاتا ہے۔ نام کی تبدیلی سے آئی ٹی صنعت خوش نہیں ہے۔
سافٹ وئر کے ایک انجینئر روی چندر شیکھر کہتے ہیں ’ہندوستان میں آئی ٹی انڈسٹری اور بنگلور شہر لازم و ملزوم ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر کرناٹک کی حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ نام بدلنے کے بجائے حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی چاہیں۔ یہاں کا بنیادی ڈھانچہ بدلنا چاہیے تھا‘۔
دویاگجدھر ماریشس کی شہری ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے بنگلور میں رہ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا اس شہر کو بنگلور کے نام سے جانتی ہے۔ مجھ جیسے نوجوان بنگلور کو ایک آئي ٹی مرکز کے طور پر جانتے ہیں جہاں مالز ہیں، ملٹی پلیکسز ہیں۔ بنگلور نام اس کاسمو پولیٹن کلچر کا غماز ہے۔ بنگالورو سے یہ بات نہیں پیدا ہوگی‘۔
![]() | |
| بنگلور نام اس کاسمو پولیٹن کلچر کا غماز ہے۔ بنگالورو سے یہ بات نہیں پیدا ہوگی |
کرناٹک کے سامنے مستقبل کے جو چیلنجز ہیں ان میں ترقی کے اعتبار سے پسماندہ دیہی علاقوں کی غریب آبادی کے حالات بہتر بنانا۔ بنگلور جیسے شہروں میں بنیادی سہولیات اچھی بنانے اور ایک مستحکم اور اہل حکومت دینے جیسے سوالات سب سے اہم ہیں۔
یہ تو وقت بتائے گا کہ ماضی کی بازیافت کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھنے کے دو رخی عمل میں کرناٹک ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکے گا یا نہیں۔