Tuesday, 31 October, 2006, 19:02 GMT 00:02 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلٰی غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ نے ہندوستان کی پارلیمان پر حملہ کے جرم میں سزا یافتہ محمد افضل گرو کے بارے میں ان کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا۔
غلام نبی آزاد نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے محمد افضل کی پھانسی کی سزا معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس اخبار یا ٹی وی چینل نے ان کے بیان کو شائع کیا ہے اس نے ان سے کبھی بات نہیں کی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ چندی گڑھ میں وزير اعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے صرف یہی کہا تھا کہ کشمیر میں جاری احتجاجی مظاہروں اور اس وقت کی صورتحال کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے ۔لیکن ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے انہوں نے وزير اعظم سے محمد افضل کے لیئے رحم کی درخواست کی حمایت کی ہو۔
رحم کی اپیل ہندوستان کی عدالت نے محمد افضل کو ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کی سازش کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ سپریم کورٹ سے اس سزا کی توثیق کے بعد ان کی رحم کی اپیل صدر کے پاس ہے۔ صدر نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے رحم کی اپیل کے بارے میں رائے مانگی ہے۔ حکومت نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ |
تاہم انہوں نے یہ کہہ کر اپنے موقف کی طرف اشارہ کیا کہ کسی مجرم کے لئیے سزائے موت کی بہ نسبت قید بامشقت زیادہ مشکل سزا ہے۔
ہندوستان کی عدالت نے محمد افضل کو ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کی سازش کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔ سپریم کورٹ سے اس سزا کی توثیق کے بعد ان کی رحم کی اپیل صدر کے پاس ہے۔ صدر نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے رحم کی اپیل کے بارے میں رائے مانگی ہے۔ حکومت نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
محمد افضل کی پھانسی کی سز ا کے خلا ف کشمیر میں مظاہرے ہو ئے ہیں اور کئی کشمیری رہنماؤں سمیت حقوق انسانی کی تنظیمں صدر سے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کر رہی ہیں جبکہ بھاریتہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم نوا تنظیمیں رحم کی اپیل مسترد کرنے کے حق میں ہیں۔