http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 30 October, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST

ایم ایس احمد
پٹنہ

لاڑکانہ کے ایک بزرگ بہار میں

ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر گیا میں ایک ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایک بزرگ پاکستانی مسافر گزشتہ ہفتے سے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں اور ان کی خیر خبر لینے والا کوئی نہیں۔

گیا کے مگدھ میڈیکل کالج ہاسپیٹل کے ڈپٹی سپرینٹینڈینٹ ڈاکٹر شو چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ مریض سے ملنے والے کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستان کے سندھ صوبہ کے لاڑکانہ شہر کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس مریض کا نام محمد صاحب جان خاں معلوم ہوتا ہے اور انکی عمر تقریباً ستر سال ہے۔ انکے والد کا نام محمد فیروز خان بتایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر چودھری کے مطابق اس مریض کو کبھی کبھی ہوش آتا ہے لیکن وہ کچھ بول پانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ مریض کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہے جس پر پلاسٹر کیا گیا ہے۔ ہوش آنے پر کچھ پوچھنے کے بعد ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

اس مریض کو گیا ریلوے جنکشن سے بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر پہلے ریلوے کے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ جب یہاں حالت نہیں سدھری تو اسے مگدھ میڈیکل کالج لایا گیا۔ ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ اس بزرگ کو ریل گاڑیوں میں نشہ آور اشیاء کھلا کر لوٹنے والے گروہ نے اپنا شکار بنایا ہے۔

اس بزرگ کو ہسپتال میں داخل ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں لیکن کسی نے انکی کوئی خبر لینے کی کوشش نہیں کی۔ مقامی طور پر کوئی انکی خیر خبر لینے والا نہیں۔ البتہ میڈیکل کالج کے نزدیک کے تھانے کے انچارج بی کے باگ ان کی نگہداشت کر رہے ہیں۔
خدشہ ہے کہ اس بزرگ کو ریل گاڑیوں میں نشہ آور اشیاء کھلا کر لوٹنے والے گروہ نے اپنا شکار بنایا ہے

دریں اثنا گیا کے ہی ملت ہسپتال کے ڈائریکٹر تنویر احمد بتاتے ہیں کہ مذکورہ مریض کے بدن پر کپڑے وغیرہ بھی نہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کپڑے وغیرہ کا انتظام کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مریض کا پاسپورٹ ریلوے تھانے میں ہے اور کوشش کی جائے گی کہ وہاں سے ٹیلی فون نمبر حاصل کر انکے اہل خانہ سے رابطہ کیا جائے۔