http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 30 October, 2006, 19:21 GMT 00:21 PST

ایچ آئی وی کی جعلی کٹیں

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں ایڈز سمیت مختلف ٹیسٹوں کے لیے استعمال ہونے والی جعلی کٹیں فروخت کرنے پر دو افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مونوزائم انڈیا نامی ادارے نے ایڈز، ہیپاٹائٹیس اور حمل کے ٹیسٹوں کے لیے استعمال ہونے والی لاکھوں کٹیں سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو فروخت کیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے یہ نکلا کہ ان بیماریوں سے متاثرہ افراد کو صحت مند قرار دے دیا گیا اور ان کے دیے ہوئے خون کے استعمال سے کئی اور لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو گئے۔

کمپنی کے مالکان بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

کولکتہ کے باسی گوند ساردا اور ان کے بھائی گھنشیام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کٹیں چین سے درآمد کی تھیں اور یہ کھیپ جس میں ناکارہ کٹیں تھیں غلطی سے تقسیم ہو گئی۔

عدالت نے ان دونوں بھائیوں کی طرف سے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

کولکتہ خفیہ پولیس کے گیان ونت سنگھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ نوے دن کے دوران ایسی نوے ہزار کے قریب کٹیں ضبط کی گئی ہیں جنہیں ان کی مدتِ استعمال گزرنے کے بعد بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

پولیس تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ کٹیں بنگال کے علاوہ انڈیا کی آٹھ دیگر ریاستوں کو بھی فروخت کی گئی ہیں۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ایک سو سترہ افراد کو جانتے ہیں جن کی غلط تشخیص ان کٹوں کے نتیجے میں غلط ہوئی اور یہ تعداد محض اتنی ہی نہیں ہو گی، اس طرح کے اور بھی بہت سے لوگ ہوں گے۔

مونوزائم نے ان کٹوں کی فراہمی کا سرکاری ٹھیکہ اسی اپریل میں حاصل کیا اور اگست تک ان کے بارے میں شکایات کی بھر مار ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مونوزائم نے اسطرح کی دو لاکھ کے قریب کٹیں سپلائی کی ہیں۔

بی بی سی کی جِل میگورنگ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے سامنے آنے سے ان لوگوں کا اعتماد مزید مجروح ہو گا جو پہلے ہی ایچ آئی وی کا ٹیٹ کرانے پر آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے۔