Saturday, 28 October, 2006, 06:06 GMT 11:06 PST
ریاض مسرور
بی بی سی ، سری نگر
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں لاپتہ لوگوں کے موضوع پر سری نگر سے ویب کاسٹ کی تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ وادی کے ہر خطے سے سینکڑوں فون کالز ہمارے پاس آنے لگیں۔
ہر کوئی اس پروگرام کی تفصیل جاننا چاہتا تھا۔ جن کے اپنے لاپتہ ہیں وہ اس پروگرام میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے ۔ وہ اپنا درد ہمارے توسط سے دنیا کو بتانا چاہتے ہیں۔
کئی نشستوں میں پروگرام کے انعقاد سے متعلق تمام تر پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اور پوری ٹیم کو الگ الگ ذمے داریان سونپی گئیں۔ اس حوالے سے پروگرام کے انعقاد اور ساتھ ہی براہ راست ویب کاسٹ و براڈ کاسٹ سے متعلق تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔
ابتدائی تیاری کے آخر پر پروگرام کی ایک کامیاب مشق بھی کی گئی۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اور ریڈیو پر اس پروگرام کی تشہیر کی وجہ سے عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کے لیئے سرگرم حلقوں نے بھی پروگرام کے بارے میں دریافت کیا۔
پچاس منٹ کے اس پروگرام کو ہندوستانی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ اور پاکستانی وقت کے مطابق آٹھ بجے شب ریڈیو پر سنا جا سکے گا جبکہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قارئین پروگرام کی مفصل رودا کے علاوہ اس کی ویڈیو بھی دیکھ سکیں گے۔ اس پروگرام میں لاپتہ افراد کے تقریباً بارہ نمائندہ لواحقین اپنی روداد بیان کریں گے۔ ان کے تاثرات پر حکومت کی طرف سے دو سینیئر وزراء ، فوجی ترجمان اور انسانی حقوق کے ایک سرکردہ کارکن اپنا اپنا رد عمل پیش کریں گے۔