http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 21 October, 2006, 11:11 GMT 16:11 PST

عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام حیدر آباد دکن

آندھرا: غیر مسلم سیاستدانوں کی نمازیں

تہواروں کے اس موسم میں جہاں عام لوگ خوشیاں منانے اور بانٹنے میں لگے ہوئے ہیں وہیں ہمیشہ کی طرح سیاستداں اس بات کے لیے سرگرداں ہیں کہ کس طرح اس ماحول کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں-

یوں تو سیاسی افطار پارٹیاں ہر جگہ رمضان کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہیں جن کے ذریعہ مختلف نظریات اور رنگوں کے سیاستداں مسلم برادری کو متوجہ اور متاثر کرنے کی بساط بھر کوشش کرتے ہیں لیکن اس بار سبھی سیاستدانوں نے اس دوڑ میں نئے ریکارڈ بنانے کی کوشش کی ہے-

جمعۃ الوداع کے اجتماعات
جمعۃ الوداع کے موقع پر حیدرآباد دکن کی تاریخی مکہ مسجد میں ایک لاکھ سے زیادہ مصلیوں (نمازیوں) کے اجتماع کے ساتھ ہی رمضان المبارک کا روح پرور ماحول اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔

اب کی بار اس بات نے اس موقع کی اہمیت کو اور بھی بڑھادیا تھا کہ جمعۃ الوداع اور شب قدر ایک ساتھ آئے تھے- اس موقع پر شہر کے مسلم اکثریتی علاقے بقعہ نور بنے رہے- ایک طرف مساجد ہزارہا عبادت گزاروں کی تسبیحات سے گونج رہی تھیں تو دوسری طرف تاریخی چارمینار کے اطرف پھیلے پتھرگٹی، لاڈ بازار اور مدینہ جیسے اہم کاروباری مراکز خریداروں کے ہجوم سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں- ایک سرور آور اور پر کیف ماحول ہے جس میں اس وقت یہ شہر ڈوبا ہوا ہے۔

تہوار کی خوشیاں دوبالا
اب کی بار اس بات نے شہر کی رونق کو دوبالا کردیا ہے کہ جہاں مسلمان رمضان المبارک کے پرکیف ماحول میں ڈوبے ہوئے ہیں وہیں ہندو برادری بھی روشنیوں کے تہوار دیوالی کا جشن منارہی ہے-

سٹی پولیس اور انسداد آلودگی بورڈ کی مشترکہ ٹیمیں اس بات پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہیں کہ 125 ڈیسیبل سے زیادہ آواز پیدا کرنے والے پٹاخے نہ جلائے جائیں- پٹاخوں کے ہول سیل تاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے پٹاخے فروخت نہ کریں- ماحولیاتی سائنسدان کے وی رمنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پٹاخوں سے صوتی اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے اور اس کا لوگوں کے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت پر برا اثر پڑرہا ہے- خاص طور پر لوگوں کی قوت سماعت متاثر ہورہی ہیں-

پولیس نے اپنی مہم کے دوران خاص طور پر اسکولی بچوں کو نشانہ بنایا ہے اورانہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ طاقتور پٹاخوں کا شور ان کے لیے کس کس طرح سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے-

امریکی قونصل خانے کا تنازعہ
اب لگ بھگ یہ طئے ہے کہ حیدرآباد میں امریکہ کا قونصل خانہ 2008 ء سے کام کرنا شروع کردے گا- اس کے لیے تاریخی اہمیت کے حامل پائیگاہ پیلس کی عمارت کو منتخب کرلیا گیا ہے- اس شاندار عمارت میں گزشتہ کئی برسوں سے حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (حڈا) کا دفتر کام کررہا ہے- جہاں ریاستی حکومت اور امریکی عہدیداروں نے پائگاہ پیلس کو قونصل خانے کے لیے موزوں قرارا دیا ہے وہیں حڈا کے ملازمین اس کی سخت مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ اس عمارت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہتے-

چینائی میں امریکی قونصل جنرل پیٹر کیسٹنر نے پائیگاہ پیلس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس عمارت میں امریکی سفارت خانہ عارضی طور پر کام کرے گا اور بعد میں شہر کے مضافات میں منائی جانے والی ایک مستقل عمارت میں منتقل ہوجائےگا۔

جہاں پائیگاہ پیلس کے تعلق سے یہ تنازعہ چل رہا ہے وہیں امریکہ جانے کے خواہشمند اس بات سے بہت خوش ہیں کہ انہیں اپنے خوابوں کی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی- امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت جتنے ہندوستانی امریکہ جاتے ہیں ان میں سے بہت بڑی تعداد کا تعلق آندھراپردیش سے ہے-

گزشتہ سال امریکہ نے ہندوستان میں جو 4 لاکھ ویزے جاری کیئے ان میں سے 80 ہزار ویزے آندھرا پردیش کے لوگوں کو دئیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں قونصل خانے کے قیام کے بعد یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ جائے گی- امریکہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فارماسوٹیکل جیسے شعبوں میں حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اپنا قونصل خانہ یہاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔