Tuesday, 17 October, 2006, 18:19 GMT 23:19 PST
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے گنگا نگر میں پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کے علاقے میں کرفیو نافد کر دیا گیا ہے۔
سری گنگا نگر کے دو قصبوں میں پیر کے روز کسانوں اور پولیس کے درمیان تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ جس کے بعد حالات کو قابو کرنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔
سری گنگا نگر کے کسان حکومت سے آبپاشی کے لیے پانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ضلع کے ایک سینئر اہلکار کنجیلال مینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گھدسانہ اور راولا علاقوں میں کرفیو نافد کیا گیا ہے۔ ان کا کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ ہیں لیکن قابو میں ہے۔
حالات سے نمٹنے کے لیے علاقے میں نیم فوجی دستے تعینات کۓ گۓ ہیں۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق 60 کسانوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے اشتعال انگیزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کسان علاقے کے ایک سرکاری دفتر کا محاصرہ کر نا چاہتے تھے ۔ اور پولیس ان کو ایسا کرنے کے سے روک رہی تھی۔ جس کے سبب کسانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
پولیس کے مطابق کسانوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس چھوڑی اور ربر کی گولیاں بھی چلائیں۔
اس واقع میں ایک درجن سے زیادہ کسان اور کم از کم چھ پولیس کے اہلکار زخمی ہوگۓ ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے اندر گھدسانہ علاقے میں دوسری بار کرفیو نافد کیا گیا ہے۔
سنہ دو ہزار چار میں بھی علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ تب کسانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے گولی چلائی تھی جس کے سبب پانچ کسانوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس واقعےکے بعد حکومت نے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں آبپاشی کے لیے کافی پانی مہیا کرائے گی۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔