Tuesday, 17 October, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم محمد افضل گرو کی رحم کی اپیل مسترد کرنے کے لیئے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
محمد افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت میں جہاں انسانی حقوق کے لیئے کام کرنے والی تنظیمیں، سماجی کارکن اور دانشور مظاہرے کر رہے ہیں تو وہیں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم نوا تنظیمیں افضل کو پھانسی دینے کے حق میں اپنی مہم تیز کر رہی ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ کی رہنمائی میں یہ احتجاجی ریلی دلی کے سروجنی نگر علاقے میں ہوئی۔ گزشتہ برس ہندؤں کے بڑے تہوار دیوالی سے قبل سروجنی نگر کے بازار میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم چالیس افراد مارے گئے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کارکنان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی حکومت ملک میں بار بار ہونے والے شدت پسند حملوں سے سبق نہیں سیکھتی اور پکڑے گئے شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں نرمی برتتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر محمد افضل کو پھانسی نہیں دی گئی تو وہ موجودہ حکومت کو پوری طرح ختم کر دیں گے‘۔
![]() | |
| محمد افضل کی اہلیہ اور بیٹا صدر سے ملاقات کے بعد |
مقررہ وقت کے مطابق افضل کو 20 اکتوبر کو جمعۃ الوداع کے دن صبح چھ بجے پھانسی پر چڑھایا جانا ہے۔ لیکن افضل کی اہلیہ تبسم اور ان کی ماں عائشہ بیگم نے صدر جمہوریہ عبدالکلام سے افضل کی جان بخشی کی ایک بار پھر اپیل کی ہے۔ فی الوقت افضل کے لیئے رحم کی اپیل صدر کے پاس ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ افضل کو پھانسی اس ماہ کی بیس تاریخ کو ہوگی یا پھر صدر جمہوریہ کے اپیل پر غور کرنے کے بعد اس مقررہ تاریخ کو آگے بڑھا دیا جائے گا۔
ادھر افضل کی پھانسی کی مخالفت میں کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں نے اپنا احتجاج تیز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افضل کو پھانسی دی گئی تو کشمیراور پورے ہندوستان میں تشدد بھڑک اٹھے گا۔