http://bbc.com.im/urdu/

عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدر آباد دکن

غریب لڑکیوں کی شادی یا’ فروخت‘

حال ہی میں حیدرآباد کی دو غریب لڑکیاں ثمینہ بیگم اور نازیہ بیگم کی عرب شہریوں سے شادی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے کہ آخر کس طرح غریب لڑکیوں کی خرید و فروحت ہوتی ہے اور کیسے انکا استحصال ہوتا ہے۔

ثمینہ بیگم اور نازیہ بیگم کا نکاح حالیہ سال اٹھارہ جولائی کو اومان کے دو بھائیوں محمد بن سالم اور یوسف بن سالم ثانی بوالسعدی کے ساتھ ٹیلیفون پرہواتھا۔ دونوں ایک خوشحال زندگی کے خواب سجائے اومان روانہ ہوگئیں۔

ان میں سے ایک لڑکی ثمینہ بیگم کے والد سید مصطفی کی واحد خواہش یہ ہے کہ ان کی بیٹی بخیر و عافیت وطن واپس لوٹ آئے- دوسری لڑکی نازیہ کی بیوہ والدہ ثریا بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے اومانی داماد نے ان سے فون پر کہا ہے کہ ان شادیوں پر انہوں نے پچہتر ہزار روپے خرچ کیے ہیں اور اگر یہ رقم انہیں واپس مل جاتی ہے تو وہ لڑکیوں کو واپس بھجوانے کے لئے تیار ہیں-

حیدرآباد کے پرانے شہر تالاب کٹہ کے رہنے والے ان دو خاندانوں نے اب اس معاملہ کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور پولیس نے یہ شادیاں کروانے والے دو مشاطاؤں اور تین قاضیوں کو گرفتار کرلیا ہے-

ساؤتھ زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ شنڈالیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کمشنر کی جانب سے دہلی میں اومان کے سفارت خانے کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں لڑکیوں کو ان بھائیوں کے چنگل سے نکال کر حیدرآباد واپس بھجوایا جائے- انہوں نے کہا کہ وہ اومانی حکام سے مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہیں-

سید مصطفی ایک ٹیلی ویژن میکنک ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اومان کے ایک اور شہری قسیب خلفان سعد الحسینی نے جولائی کے مہینے میں ان سے اور ثریا بیگم سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی اور ان دونوں اومانی بھائیوں کی تصاویر انہیں دکھاکر ان کی بچیوں کے لئے پیام دیا تھا-

مصطفًی کا کہنا ہے ک وہ مشاطاؤں کی باتوں میں آ کر اس رشتے کے لیئے راضی ہو گئے کیونکہ غربت کی وجہ سے حیدرآباد میں اپنی لڑکی کی شادی کا بندوبست نہیں کرپا رہے تھے-

دوسری لڑکی کی والدہ ثریا بیگم کا بھی کم و بیش یہی بیان تھا- مصطفی کا کہنا تھا کہ انہیں ٹیلی فون پر ان دونوں بھائیوں کے نکاح پر اس لیئے حیرت یا اعتراض نہیں ہوا تھا کہ عام طور پر اس طرح کی شادیاں ہوتی رہتی ہیں اور شریعت میں اس کی گنجائش ہے-

مصطفی کی شکایت ہے کہ رشتہ کروانے والوں نے انہیں دونوں اومانی شہریوں کی ذہنی حالت اور مالی حیثیت کے بارے میں دھوکے میں رکھا کیونکہ اومانی حکومت کا اجازت نامہ عربی میں تھا اس لئے وہ اسے ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکے-

پولیس کا کہنا ہے کہ نکاح پڑھوانے میں دو قاضیوں حاجی محمد ظہیرالدین اور محمد عبدالرشید اور معطل شدہ قاضی عبدالوحید قریشی کا ہاتھ تھا- عبدالوحید قریشی کوگزشتہ سال ریاستی وقف بورڈ نے اس وقت معطل کردیا جب انھوں نے پرانے شہر کی دو غریب لڑکیوں کا نکاح دبئی کے ایک شہری سے بیک وقت پڑھادیا تھا-

اب یہ تینوں دھوکہ دہی کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں- پولیس اس بات کی تحقیق بھی کرر ہی ہے کہ کس طرح ایک معطل شدہ قاضی وقف بورڈ سے ان شادیوں کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا- پولیس حکام نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا ہے کہ اس اسکینڈل میں کچھ وقف بورڈ کے ملازمین بھی ملوث ہوسکتے ہیں-

حیدرآباد میں مقامی لڑکیوں کی عربوں سے شادی کی تاریخ کافی پرانی ہے کیونکہ اس شہر میں عرب نژاد شہریوں کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے- یہ وہ لوگ ہیں جو آصف جاہی حکمرانوں کی فوج میں شامل تھے اور اس کے بعد سے یہ حیدرآباد میں ہی آباد ہیں-

ابتدا میں یہ شادیاں صرف انہی خاندانوں تک محدود تھیں لیکن رفتہ رفتہ جہیز کی رسم اور لڑکوں کے خاندانوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے مطالبات نے جب مقامی غریب لڑکیوں کی شادی ناممکن بنادی تو عرب شہریوں سے ان کی شادیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا-

یہ شکایت بھی عام رہی ہے کہ کم عمر مقامی لڑکیوں کا بیاہ بوڑھے عرب شہریوں سے کردیا جاتا ہے- 1991 ء میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا جب چودہ سالہ آمنہ کو ایک ساٹھ سالہ سعودی شہری سے بیاہ دیا گیا تھا-

اس لڑکی کواس وقت بچالیا گیا جب سعودی عرب جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے میں ایئر ہوسٹس نے اسے روتے ہوئے دیکھا اور پوچھنے پر آمنہ نے اسے اپنی بپتا سنائی-

اس کے بعد آندھراپردیش کی حکومت نےسخت کارروائی کرتے ہوئے بلا اجازت اس طرح کی شادیوں پر پابندی عائد کردی تھی- قاضیوں کے لئے لازمی کردیا گیا کہ وہ متعلقہ ملک کی حکومت کی اجازت اور مقامی وقف بورڈ کی منظوری کے بعد ہی اس طرح کی شادیاں انجام دیں- لیکن پھر بھی اس طرح کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا-

سرکاری طور پر اس طرح کی شادیوں کے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ اس طرح کے کیسز اسی وقت سامنے آتے ہیں جب متاثرہ خاندان پولیس سے رجوع کرتے ہیں لیکن چونکہ استحصال کا شکار ہونے والے اکثر خاندان غریب اور ان پڑھ ہوتے ہیں اس لئے وہ یا رو پیٹ کر خاموش بیٹھ جاتے ہیں یا پھر جو کچھ پیسہ مل جائے اسی پر اکتفا کرلیتے ہیں۔

ایک سینئر پولیس عہدیدار اے کے خان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ایک بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حیدرآباد میں عرب ممالک کے شہریوں کو بلا روک ٹوک آنے اور گھوم پھرنے کی اجازت ہے جبکہ اس طرح کی سرگرمیوں اور لڑکیوں کے استحصال کے واقعات کے مد نظر یہ لازمی ہونا چاہئے کہ تنہا انڈیا آنے والے عرب شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے-