Friday, 13 October, 2006, 15:40 GMT 20:40 PST
گجرات ہائی کورٹ نے گودھرا واقعے کی تحقیق کرنے والے جسٹس یو سی بنرجی کمیشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تحقیقات سے یہ واضح ہے کہ اس واقعہ میں کوئی سازش نہیں تھی اور یہ واقعہ محض حادثہ تھا۔ بنرجی کمیشن مرکزی حکومت نے تشکیل دیا تھا۔
فروی 2002 میں گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین کے ڈبے میں آگ لگنے سے انسٹھ ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ایک بھیڑ نے ٹرین میں آگ لگائی تھی۔ اس واقعے کے بعد ریاست گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔
ان دونوں واقعات کی تحقیقات ناناوتی اور کے جی شاہ کمشین کر رہے ہیں جنہیں ریاستی حکومت نے تشکیل دیا تھا۔ لیکن بعد میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادونے گودھرا کے واقعے کی تحقیق کے لیے بنرجی کمشین بنایا تھا۔
اس کمیشن کو ٹرین کے ایک مسافر نیل کنٹھ بھاٹیہ نے یہ کہ کر عدالت میں چیلنج کیا تھا کہ کسی ایک واقعے کی تفتیش دو کمیشن ایک ساتھ نہیں کر سکتے ہیں۔
جسٹس بنرجی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے ہی والی تھی کہ گجرات ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ وکیل یوگیش مہتا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے اس رپورٹ کو کالعدم قرار دیا ہے اور ’اب نہ تو اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘
عدالت کے فیصلے کے بعد گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے کہا کہ بنرجی کمیشن سیاسی وجوہات کے سبب تشکیل دیا گیا تھا اور اس کا مقصد ان مسلمانوں کو بچانا تھا جو گودھرا واقعے کی سازش میں ملوث تھے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے علاقے کے بیشتر اثر و رسوخ والے مسلمانوں کو پوٹا کے تحت گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ جبکہ فسادات کے بہت ملزم آزاد ہیں۔
اس معاملے کے ایک دوسرے وکیل وجے پٹیل نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔