Friday, 13 October, 2006, 21:47 GMT 02:47 PST
گوہر نذیر شاہ
دلی
جہاں ہندوستانی پارلیمان پرحملے میں مجرم قرار دیئے گئے کشمیری نوجوان محمد افضل گورو کو پھانسی کی سزا کے خلاف ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج جاری ہے وہیں ہندوستان کے دارلحکومت دلی میں ایک کشمیری طالب علم ارشاد احمد لون کی پراسرار ہلاکت کے واقع نے وادی کے لوگوں کو مزید برہم کر دیا ہے ۔
شورش زدہ خطے میں سرگرم علیحدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے انجینئرنگ کے طالب عالم ارشاد احمد کی ہلاکت کے واقعے میں غیر جانبدار تحقیقا ت کا مطالبہ کیا۔
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اپنے جمعہ کے خطبے کے دوران میر واعظ نے ارشاد کی ہلاکت کے واقع کے بارے میں کہا کہ ایک اور کشمیری نوجوان کو بے دردی اور بے رحمی سے ہلاک کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 23 سالہ ارشاد نے سرکاری ادارے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹیٹوٹ سے انجینئرنگ کا کورس کیا تھا اور وہ نوکری کے سلسلے میں 21 ستمبر کو دلی سے متصل ہریانہ کے شہر گڑگاؤں آئے تھے۔
ارشاد کو اتوار کے روز دلی کے شاہدرہ فلائی اوور کے پاس شدید ژخمی حالت میں پایا گیا تھا۔ ان کی تدفین جمعرات کو سرینگر میں ہوئی۔
ارشاد کے بھائی طارق احمد لون نے سرینگر سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کے بھائی کی لاش پر نہ صرف جلانے کے باقاعدہ نشانات موجود تھے بلکہ انکے بدن پر ڈنڈوں سے مار پیٹ کی گئی تھی اور گرم استری سے پیٹ کو جلایا گیا تھا۔
طارق نے مزید کہا کہ ان کے بھائی کو بےد ردی سے قتل کیا گیا ہے اسکی لاش پر سگریٹ کے نشان، گرم استری کی چھاپ اور سر پر شدید قسم کے زخم تھے۔
میر واعظ عمر نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ معصوم ارشاد احمد کے وحشیانہ قتل سے ایک بار پھر پوری کشمیر قوم میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بالخصوص کشمیری نوجوان عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔
میر واعظ نے دلی پولیس پر الزام عائد کرتے ہوۓ کہا کہ سری نگر علاقے چھانہ پورہ سے تعلق رکھنے والے ارشاد پولیس کے تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ایسی کاروائیوں سے ہندوستان کے مخاصمانہ پالیسی کا صاف عندیہ ملتا ہے۔
ارشاد نے گزشتہ ہفتے آخری بار دلی کی جامع مسجد کے ایک ٹیلیفون بوتھ سے اپنے گھر والوں سے بات کی تھی۔
قومی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق ارشاد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں انکی موت ہوگئی۔
دلی پولیس نے ارشاد کے قتل کے معاملے میں گڑگاؤں کی ایک مقامی مسجد کے امام سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے لیکن ابھی تک واقع میں کوئی پیش و رفت نہیں ہوئی ہے۔
ارشاد کی ہلاکت اس قسم کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ سترہ برسوں کے دوران کئی کشمیری طالب علم اور تاجروں کو نئی دلی، بنگلور اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں میں پراسرار حالت میں قتل کیا گیا ہے۔ یہ طالب علم اور تاجر پڑھائی اور نوکری کی تلاش میں ہندوستان کے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
تقریباً اس طرح کے سبھی معاملات پولیس کی فائلوں میں بند ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان واقعات کے لئے ہندوستان کی خفیہ ایجنیسیز پر شک کرتی ہیں۔