http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 11 October, 2006, 15:12 GMT 20:12 PST

خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

چکن گونیا: جنوب تا دلی پھیل گئی

ہندوستان میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری چکن گونیا پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ایک اہم میٹنگ کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چکن گونیا لاعلاج بیماری نہیں ہے اور یہ بیماری فضائی آلودگی سے پھیل رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے حکومت متاثرہ ریاستوں کو ہر ممکنہ مدد دے رہی ہے۔

کیرالا میں چکن گونیا سے ساٹھ ہلاک

مچھروں سے پھیلنے والی بیماری چکن گونیا شروعات میں صرف جنوبی بھارت تک محدود تھی لیکن اب یہ بیماری دھیرے دھیرے گجرات، راجستھان اور دلی کے آس پاس کی ریاستوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے مرکزی وزیر صحت انمبونی رامادوس نے چکن گونیا سے متاثرہ 14ریاستوں کے وزراء صحت کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں چکن گونیا سے نمٹنے کے طریقوں پر غور فکر کیا گیا اور متاثرہ افراد کو بہتر سے بہتر سہولتیں دینے پر غور کیا گیا۔

مسٹر رامادوس نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت تمام متاثرہ ریاستوں کو نہ صرف دوائیاں اور اسپرے کی مشینیں مہیا کر رہی ہے بلکہ اس کے لیے وہ سبھی ریاستوں کو ان کی ضرورتوں کے مطابق مالی امداد بھی دے رہی ہے۔ مسٹر رامادوس کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت اس بیماری پر قابو پانے کے لیے متاثرہ ریاستوں کو تقریبا 20 کروڑ روپے کی امداد دے چکی ہے اور آنے والے دنوں میں ان ریاستوں کو اور امداد مہیا کرائی جائیگی‘۔

مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی دو سری بیماری ڈینگو سے دلی جیسا شہر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مسٹر رامادوس نے بتایا کہ رفتہ رفتہ ڈینگو کے واقعات میں کمی آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈینگو اور چکن گونیا کے ٹیسٹ کے لیے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔ اور جو شخص اس بیماری میں مبتلا پایا گیا اس کا مفت علاج کیا اور کرایا جائیگا۔