Monday, 09 October, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اعتدال پسند لیڈر میر واعظ عُمرفاروق نے پیر کے روز کہا کہ نئی دلّی اور اسلام آباد کے درمیان کشمیر پر مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
یہ ورکنگ گروپ بقول میر واعظ، جموں کشمیر سے مرحلہ وار فوجی انخلا، ہند پاک سرکریک آبی سرحد تنازعہ اور سیاچن مسئلے سے متعلق روڈ میپ ترتیب دیگا۔ یہ انکشاف انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کے تین ہفتوں کے دورے سے واپسی پر بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔
میر واعظ نے، جو علیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ بھی ہیں، ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے مجّوزہ پاکستانی دورے کو ’یقینی‘ بتایا اور کہا کہ ڈاکٹر سنگھ کے اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل وہ خود بھی پاکستان جائیں گے اور وہاں کی حکومت کو کشمیر کے ’زمینی حالات سے آگاہ کرینگے‘۔
میر واعظ کا کہنا ہے کہ، ’گزشتہ ماہ کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی چوٹی ملاقات کے بارے میں بہت سی باتیں ابھی تک میڈیا میں مشتہر نہیں ہوئی ہیں‘۔
ورکنگ گروپ کیا کرے گا |
ورکنگ گروپ کی تفصیلات پوچھنے پر میرواعظ نے بتایا کہ ’اس میں جموں کشمیر کے دونوں حصوں سے ہندوستانی اور پاکستانی افواج کے مرحلہ وار انخلا، سیاچن معاملہ اور سرکریک آبی سرحد کے تنازعہ سے متعلق روڈمیپ (نقش راہ) ترتیب دیا جائیگا‘۔
میرواعظ نے دعویٰ کیا کہ ’اس سلسلے میں نئی دلّی اور اسلام آباد کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور حتمی ایجنڈا متعّین کرنے کے لیے گراونڈ ورک بھی ہورہا ہے‘۔
پہلے میں اسلام آباد جاؤں گا |
نیویارک میں قیام کے دوران میرواعظ عُمر نے اسلامی ممالک تنظیم یا او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کی کانفرنس اور او آئی سی رُکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں بطور مبصر شرکت کی۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی قومی سلامتی کونسل اور جنوب ایشیائی امور کی وزارت کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پچیس ستمبر کو میرواعظ نے نیویارک کے ہوٹل رُزویلٹ میں پاکستان کے صدر جنرل مشرف کے ساتھ ملاقات کی جو پینتالیس منٹ تک جاری رہی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں ایسی قّوتیں موجود ہیں جو ’بنا بنایا کھیل بگاڑ‘ سکتی ہیں، لہٰذا اس عمل کو نہایت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے۔