Friday, 06 October, 2006, 12:14 GMT 17:14 PST
مقبول احمد سراج
بنگلور
شاکی اور فریادی عوام کے لیئے بالی وڈ کی فلم' لگے رہو منا بھائی' اہم ہتھیار بن کر ابھر رہی ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ پچھلے ہفتے بنگلور کی بے نظیر بیگ نے فلم’لگے رہو منا بھائی‘ دیکھی اور اپنے اسکول کے لیئے خریدی گئی زمین کو ناجائز قبضہ کنندگان سے گاندھی گیری طرز پر احتجاج کر کے خالی کروا لیا۔
بے نظیر بیگ شہر کی ایک متوسط آمدنی والے محلے میں کم سن مزدوروں کے لیئے اسکول چلاتی ہیں۔ انہوں نے سات ماہ قبل اسکول سے ملحق زمین سولہ لاکھ روپوں میں خریدی تھی تا کہ پانچ سو پر مشتمل طلباء کے اس اسکول کی عمارت میں توسیع کی جا سکے۔
لیکن اس زمین پر ایستادہ ایک گودام کو مشہور فرنیچر فرم ’میتھوڈیکس‘ نے مدت کرایہ ختم ہونے کے باوجود خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بےنظیر اور ان کے ’ ایکسیلینٹ‘ سکول کے منتظم رضا ایجوکیشنل سوسائٹی کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے اس فرم نے کورٹ سے یہ احکام بھی حاصل کر لیئے تھے کہ ان کے گودام میں بے نظیر اور ان کے اسٹتاف ممبر داخل نہ ہو سکیں۔
یہ صورت حال بہت تکلیف دہ تھی کیونکہ بے نظیر کا سکول ان بچوں کے لیئے مختص ہے جو یا تو ماضی میں ورکشاپوں، ہوٹلوں یا فیکٹریوں میں کام کرتے تھے یا پھر آورہ گردی کرتے ہوئے پولیس کے ہتھے چڑھتے ہوئے یہاں لائے گئے تھے یا بہت ہی غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
بے نظیر نے یہ سکول 1993 میں قائم کیا تھا اور پانچ سو بچےفی الحال بارہ سو مربع فٹ کی ایک عمارت میں تعلیم پا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی مکان کو بینک میں رہن رکھ کر اسکول سے ملحق چھ سو مربع فٹ زمین اپریل میں خریدی مگر کرایہ دار فرم نے وعدہ کے برخلاف اسے خالی کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ گزشتہ پانچ ماہ سے کرایہ بھی بند کر رکھا تھا۔
بس پھر کیا تھا استانی شمیم کو اہم کردار’ سرکٹ‘ بنایا گیا۔ فون ڈائرکٹری سے میتھوڈیکس فرم کے شہر میں واقع تیرہ شوروموں کے محل وقوع متعین کئیے گئے اور آخر میں شہر کے پوش شو روم جوسی، ایم ایچ روڈ پر واقع شو روم کو پرامن احتجاج کا ہدف مقرر کیا گیا۔
پچیس ستمبر کو تین آٹو رکشا میں پچیس طلبا کے ساتھ کئی استانیوں نے اس فرم کی شوروم پر ہلہ بول دیا اور شو روم اور فرم کے جنرل منیجر’ نائن چاکو‘ پر گلدستوں کی بارش کر دی۔ گلدستوں پر مودبانہ انداز سے گودام خالی کرنے کی گزارش بھی تحریر تھی۔
نائن چاکو کے لیئے یہ صورت حال غیر متوقع تھی۔ دو روز کے ناکام احتجاج کے بعد بے نظیر اور شمیم نے وہیں بچوں کے لیئے کلاسیں بھی منعقد کرنا شروع کر دیں۔ اس پر نائن چاکو نے پولیس کو خبردار کیا اور بے نظیر کو پولیس سٹیشن جا کر بھی اپنی فریاد سنانا پڑی۔
شہر کی فیشن ایبل شاہ راہ پر ایک پوش شوروم میں اس ڈرامے کو دیکھ کر شام نامے ’مڈڈے‘ نے اس احتجاج کو مہمیز عطا کی۔ اس کے بعد جب مقامی ٹی وی چینلوں کے عملے نے شو روم پہنچنا شروع کیا تو چاکو اور ان کے عملے نے شو روم مقفل کر کے راہ فرار اختیار کی۔
بلآخر انتیس ستمبر کو پورے ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد دونوں فریقین نے یہ تصفیہ کیا کہ پچیس اکتوبر کو اس سائٹ کو اسکول کے حوالے کر دیا جائے گا۔ نائن چاکو کا یہ جملہ کہ ’ آپ نےمجھے خود میرے سٹاف کے درمیان ولین بنا دیا‘ غالباً اس پورے ہنگامے کا سب سے معنی خیز جملہ تھا جسے قارئین نے گاندھیائی احتجاج پر سب سے مناسب قرار ریمارک قرار دیا ہے۔
بے نظیر بیگ ہندی میں ایم اے ہیں۔ ان کی رضا ایجوکیشن سوسائٹی غریب طلبا کی تعلیم کی غرض سے قائم کی گئی تھی۔ بسم اللہ نگر میں واقع ان کا اسکول نیشنل چائلڈ لیبر پروگرام کے تحت متعدد بچوں کو تعلیم اور دوپہر کا کھانا بھی دیتا ہے۔ بے نظیر کی مستقل مزاجی اور لگن دیکھ کر مقامی روٹری کلب نے پرانے گودام کو منہدم کر کے نئی عمارت تعمیر کرنے کی پیشکش کی ہے۔
بے نظیر اپنی اس جدوجہد کی کامیابی کے لیئے فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ کے ڈائریکٹر راجکمار ہیرانی اور اداکار سنجے دت کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلم نے ان کو پرامن احتجاج کا راستہ دکھایا ورنہ عدالتی چارہ جوئی انہیں برسوں ایک پیچیدہ بھول بھلیوں میں پھنسائے رکھتی۔