http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 05 October, 2006, 13:05 GMT 18:05 PST

ڈینگو وائرس سے 38 افراد ہلاک

ہندوستان کی حکومت نے ڈینگو کو وباء قرار دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری پر پوری طرح سے قابو پانے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

صحت کے مرکزی وزیر امبو منی رام دوس نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک ڈینگو وائرس سے ہندوستان بھر میں 38 اموات واقع ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ملک میں دو ہزار نوسو افراد ڈینگو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 673 افراد کا تعلق دلی سے ہے۔

ان کے مطابق ڈینگو سے ہونے والی 38 میں سے پندرہ اموات دارالحکومت دلی میں ہوئیں جبکہ گجرات میں تین ، راجستھان میں سات، مغربی بنگال میں تین اور کیرلا میں چار اموات ہوئی ہیں۔

 ملک میں دو ہزار نوسو افراد ڈینگو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 673 افراد کا تعلق دلی سے ہے
 
مرکزی وزیر صحت

رام دوس نے ڈینگو کے سلسلے ميں میڈیا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں میڈیا نے اچھے اور برے دونوں کردار ادا کیے ہیں۔ برا اس لیئے کیونکہ میڈیا نے عوام میں گھبراہٹ پھیلائی ہے اور اچھا اس لیئے کہ ڈینگو وائرس کے بارے میں عوام میں میڈیا کی مدد سے شعور پیدا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈینگو کا علاج مشکل نہیں ہے اور کسی بھی ہسپتال میں اس کا علاج کیا جا سکتا ہے ۔ لوگوں کو نئی دہلی کے ایمز جیسے بڑے اسپتال میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

صحت کے وزير نے ایک بار پھر ڈینگو کو وبائی بیماری قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل یہ پورا معاملہ صفائی سے تعلق رکھتا ہے اور اکیلے حکومت کے لیئے اس سے نمٹنا مشکل ہوگا۔

گزشتہ برس پورے ملک میں ڈینگو وائرس کے گیارہ ہزار نو سو کیس سامنے آئے تھے اور اس بیماری نے 157 افراد کی جانیں لیں تھیں۔