Saturday, 30 September, 2006, 15:10 GMT 20:10 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اودو ڈاٹ کام، سرینگر
تیرہ دسمبر دو ہزار ایک میں انڈین پارلیمنٹ پر ہوئے فدائی حملے کے لیئے سزائے موت پانے والے محمد افضل گورو کی زندگی علم، فن اور مزاحمت کا دلچسپ امتزاج ہے۔
تشدد پر تعلیم کو ترجیح
ہائر سیکنڈری کے لیئے جب انہوں نے سوپور کے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ میں داخلہ لیا تو وہاں ان کی ملاقات نوید حکیم سے ہوئی جو پُرامن ہند مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش تھے لیکن افضل نے پڑھائی کو ترجیح دی اور بارہویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنے والد کا خواب پورا کرنے میں جُٹ گئے۔
جب کشمیر میں اُنیس سو نوّے کے آس پاس مسلح شورش شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھے۔ تب تک ان کے دوست نوید حکیم عرف انجم عسکریت کو اپنا چکے تھے۔
بندوق کا انتخاب
اسی دوران سرینگر کے نواحی علاقے چھانہ پورہ میں انڈین فورسز نے کریک ڈاؤن کے دوران متعدد خواتین مببینہ عصمت ریزی کا واقعہ ہوا تو افضل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ نے انہیں شدید دھچکہ پہنچایا، چنانچہ انہوں نے نوید کے ساتھ رابطہ کیا اور ہند مخالف جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔
کنٹرول لائن کے پار مظفرآباد میں ہتھیاروں کی تربیت کے بعد واپس لوٹے تو تنطیم کے عسکری حکمت عملی کے سربراہ بن گئے۔ سوپور میں تقریباً تین سو بندوق بردار ان کی ماتحتی میں تھے۔
خون خرابہ پسند نہیں |
اپنے چچیرے بھائی شوکت گورو (پارلیمنٹ حملے کے ایک اور ملزم) کی مدد سے انہوں نے دلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور گریجویشن کے بعد اکنامکس میں ڈگری حاصل کر لی۔ شوکت کے چھوٹے بھائی یٰسین گورو کا کہنا ہے کہ افضل دلی میں اپنا اور اپنی پڑھائی کا خرچ ٹیوشن کر کے چلاتے تھے۔ ڈگری کے بعد تھوڑے عرصے کے لیئے شوکت اور افضل دونوں نے بینک آف امریکہ میں نوکری کی۔
پُرامن زندگی کا آغاز
بالآخر افضل دلی میں سات سالہ قیام کے بعد اُنیس سو اٹھانوے میں کشمیر اپنے گھر واپس لوٹے۔ یہاں ان کی شادی بارہ مولہ کی تبسّم کے ساتھ ہوئی۔ تبسم کہتی ہیں کہ وہ افضل کے ماضی سے واقف تھیں لیکن افضل کی موسیقی میں دلچسپی سے انہوں نے اخذ کیا کہ افضل کا عسکریت پسند بننا ایک حادثہ تھا۔ ان کا کہنا ہے ’غالب کی شاعری ان کے سر پر سوار تھی۔ یہاں تک کہ ہمارے بیٹے کا نام بھی غالب رکھ گیا۔وہ مائیکل جیکسن کی موسیقی شوق سے سنتے تھے۔‘
امن کی راہ میں رکاوٹیں
افضل کے بچپن کے ساتھی ماسٹر فیاض کا کہنا ہے کہ مقامی آرمی کیمپ پر ہر روز حاضر ہونے کی پابندی اور پولیس ٹاسک فورس کی زیادتیوں نے افضل کی سوچ میں آئی تبدیلی کو واپس موڑ دیا۔ فیاض کہتے ہیں ’ انڈین آرمی نے ہماری اس بستی پر فولادی گیٹ نصب کیئے ہوئے ہیں۔ آتے جاتے پوچھ تاچھ اور سودا سلف لانے کے لیئے تلاشی سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ یہ گیٹ شام کو غروب آفتاب کے بعد بند ہوجاتا ہے اور صبح سات بجے کھلتا ہے۔ اسی کیمپ میں افضل کو حاضری کے لیئے جانا پڑتا تھا۔ وہاں ان لڑکوں کی تذلیل ہوتی تھی۔ ان سے بیگار لیا جاتا۔‘
افضل کی بھابی بیگم اعجاز کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار میں ٹاسک فورس نے افضل کوگرفتار کر لیا اور جان لیوا اذیتوں سے گزارا۔ ٹاسک فورس کیمپ میں افضل کے ساتھ ایک ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بیگم اعجاز کہتی ہیں ’جب ہم اسے ملے تو وہ نیم مردہ تھا۔ میں نے اپنے بچے کو اس کے آگے کیا کہ وہ اسے گود میں لے لے، تو وہ افضل کی باہوں سے پھسل کرگرگیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس کی ساری انگلیاں سوجن سے ٹیڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ بچے کو نہیں تھام سکا۔‘
![]() | |
| افضل کو موسیقی اور شاعری سے ہمیشہ لگاؤ رہا ہے |
بعدازاں افضل نے سوپور میں رہنا چھوڑ دیا اور زیادہ تر دلی اور سرینگر میں رہنے لگے۔ ہلال گورو کا کہنا ہے کہ جب تیرہ دسمبر کو انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو وہ افضل کے ساتھ دلی میں موجود تھے۔
ہلال کا کہنا ہے کہ وہ افضل کے ہمراہ دوائیں لے کر ٹرک میں پندرہ دسمبر کو کشمیر پہنچے اور سوپور جاتے ہوئے علی الصبح پولیس نے ٹرک کو گھیرے میں لے کر شوکت اور افضل کو گرفتار کر لیا۔
محمد افضل کو انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں ان کے کردار کی بنا پر بیس اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے مذموم عمل میں ان کی اعانت کے لیئے محمد افضل نے وہ سب کچھ کیا جو وہ ممکنہ طور پر کر سکتے تھے۔
عدالت کے مطابق ’اس بات کی قطعی شہادت موجود ہے کہ محمد افضل، سازش کا ایک حصہ تھے اور ان کا مرنے والے دہشت گرد سے تعلق تھا۔‘
اگر محمد افضل کو عدالت کے فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو وہ دوسرے ایسے کشمیری ہوں گے جنہیں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔
انیس سو چوراسی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بھٹ کو انڈیا کی انٹیلیجنس کے ایک افسر کو قتل کرنے کے جرم پر سزائے موت دی گئی تھی۔