Tuesday, 26 September, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
ہندستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ آگرہ کانفرنس کی ناکامی کے متعلق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے جو بھی کچھ لکھا ہے اس پر انہیں حیرت ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کسی نے جنرل پرویز مشرف کی توہین نہیں کی تھی اور میری بھی کسی نے توہین نہیں کی تھی‘۔
آگرہ سربراہ کانفرنس سنہ دو ہزار دو میں ہوئی تھی اور امکان تھا کہ کانفرنس میں کئی باتوں پر معاہدہ ہوسکتا ہے لیکن آخری مرحلے پر یہ کانفرنس پوری طرح ناکام ثابت ہوئی تھی اورکوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔ اس کی ناکامی کی ذمہ داری اس وقت کے وزیر داخلہ لعل کرشن اڈوانی پر ڈالی جاتی ہے۔
واجپائی نے کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف کی کتاب تو نہیں پڑھی ہے لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کے بعض بیانات سے حیرت ضرور ہوئی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آگرہ کانفرنس کے دوران پرویز مشرف نے جموں کشمیر میں جاری تشدد کو دہشت گردی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور وہ اسے آزادی کی لڑائی بتاتے رہے تھے۔ بھارت ان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرسکا اور یہی آگرہ کانفرنس کی ناکامی کی وجہ تھی۔
واجپائی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ان کی حکومت کی پہلی ترجیح تھی لیکن ان کے ساتھیوں کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اسی صورت میں بہتر ہوسکتے ہیں جب سرحد پار سے جاری شدت پسندی پر قابو پایا جاسکے۔
’اسی مقصد کے تحت میں لاہور کے بس سفر پر نکلا تھا۔ اسے سراہا تو بہت گيا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔‘ اور جب پاکستان میں اقتدار بدل گیا تو میں نے پرویز مشرف کو آگرہ کانفرنس کی دعوت دی تھی۔
ناکامی کی وجہ۔۔ |
واجپئی نے کہا کہ تمام حالات کو صحیح تناظر میں پیش کرنے کے لیئے انہیں یہ بیانات دینے پڑے ہیں۔
انڈین میڈیا میں پاکستانی جنرل پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کے خوب تذکرے ہورہے ہیں۔ ملک کے تقریبا سبھی اخبارات نے اس کتاب کے بعض اقتباسات کو صفحہ اول پر جگہ دی ہے اور اس کے حوالے سے طرح طرح کے مضامین بھی شائع کیئے ہیں۔
کارگل کی جنگ ہو، نیوکلیائی معاملات یا پھر آگرہ سربراہی کانفرنس سبھی مسائل پر اس کتاب کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز پر تفصیلی مباحثے ہورہے ہیں۔