Thursday, 21 September, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
زبیر احمد
بی بی سی نیوز، ممبئی
ممبئی میں سن1993 کےبم دھماکوں سے متاثرہ لو گوں کے لیئے یہ تسلی کی بات ہے کہ آخر کار اس حادثے میں ملوث مجرموں کے خلاف فیصلے آنے شروع ہو گئے ہیں۔
لیکن ملک بھر میں ایسے ہزاروں مظلوم ہیں جو فرقہ وارانہ فسادات کے شکار ہوئے ہیں اور وہ ابھی تک انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔
ان مقدمات میں کئی ایسے ہیں جو ممبئی دھماکے کے مقدموں سے بھی لمبے چلے آرہے ہیں اور جو کافی دنوں سے چرچہ میں رہے ہیں۔ان مقدمات کے فیصلے میں ہو رہی دیری سے مسلمانوں اور سکھوں میں کافی مایوسی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دیری در اصل ان کے خلاف ایک منظم تعصب ہے۔
ممبئی دھماکوں سے متعلق عدالت کے پہلے فیصلے کا ملک بھر میں خیرمقدم کیا گیا لیکن ممبئی کے ماہم علاقے جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے وہاں کا ماحول ایسا نہیں تھا۔
یہ وہ علاقہ ہے جہاں میمن برادری کے لوگ رہتے ہیں اور اس خاندا ن کے چار لوگ اس معاملے میں قصوروار قرار دیئے گئے ہیں۔میمن گھرانے کے پڑوسیوں کو عدالت کے فیصلے پر بھروسہ نہیں ہے۔ عابد صدیقی میمن خاندان کے پڑوسی ہیں۔عدالت کے فیصلے کی خبر سنتے ہی ان کی آنکھوں میں آنسوآ گئے۔ان کا کہنا ہے کہ’ حالانکہ عدالت نے میمن خاندان کے خلاف فیصلہ سنایا ہے لیکن ہم نہیں مانتے کہ وہ لوگ ممبئی دھماکے میں ملوث تھے‘۔
ممبئی کے فرقہ وارانہ فسادات میں سب سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد پولیس پر شدید نکتہ چینی ہوئی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا تحفظ نہ کرنے کے الزامات لگے تھے۔
اسی طرح ایودھیا میں ہندو نظریاتی تنظیم کے کئی لیڈروں پر تشدد بھڑکانے کا الزام ہے لیکن کسی کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ممبئی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی جانچ کرنے والے کمیشن نے کئی ملزمین کی پہچان کی تھی لیکن ابھی تک سبھی آزاد ہیں۔
سکھ فرقے کے لوگوں کی حالت بھی مسلمانوں سے الگ نہیں ہے۔سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں سکھ ہلاک ہو گئےتھے۔ان فسادات کے متاثرین گزشتہ 22 برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ ان فسادات میں بھی تحقیقات کرنے والے کمیشنوں جن کی تعداد نو ہے، نے کئی مشہور لیڈروں کی پہچان کی تھی جو اس معاملے میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے۔ لیکن آج تک ان میں کسی کو سزا نہیں ملی۔
ایسا لگتا ہے کہ ان تمام معاملات میں کارروائی کرنے میں سیاسی رکاوٹیں کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ سکھ مخالف فسادات کی جانچ کرنے والے ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد مرکزی حکومت نے متعلقہ ریاستی حکومت سے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ فسادات میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ان فسادات میں کئی کانگریسی لیڈر کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان معاملوں میں عام طور پر سیاسی عزم کی کمی ہے اور یہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کیونکہ فسادات سے متاثرہ لوگوں کےلیے سرکار ہی وکیل فراہم کرتی ہے اور یہ بات کافی حد تک وکیل پر منحصر کرتی ہے کہ وہ معاملے کو عدالت میں کیسے رکھتا ہے۔ اس لیے حکومت کے عزم کی عکاسی وکلاء کے کام سے ہو جاتی ہے۔
سن1989 میں بہار کے بھاگل پور میں ہوئے فسادات کی رپورٹ لالو پرساد کی حکومت کے دور میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاملے میں مقامی عدالت میں 14 لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی لیکن ثبوت کی کمی کے باعث ابھی بھی 22 لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی نظروں میں یہ سراسر حکومت کی جانب دارانہ رویے کا نتیجہ ہے۔ میمن کے پڑوسی ممبئی دھماکے پر فیصلہ کے متعلق کہتے ہیں کہ ’ کیا یہ حکومت کے جانبدارانہ رویے کی مثال نہیں ہے‘؟