Saturday, 16 September, 2006, 10:13 GMT 15:13 PST
نارائن باریٹھ
راجستھان
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں پولیس نے پانچ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے ایک گاؤں میں غیر قانونی عدالت لگائی تھی۔
اس عدالت نے چوری کے ملزمان کا گرم پانی میں ہاتھ ڈال کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیئے کہا تھا۔
یہ واقعہ چتورگڑھ کے ایک گاؤں ’ران پور‘ میں پیش آیا۔ گاؤں کی عدالت نے بہت سے افراد سے بے گناہی ثابت کرنے کے لیئے انکو کھولتے پانی میں ہاتھ ڈالنے کو کہا تھا۔ اس واقعے میں کم از کم پچاس افراد کے ہاتھ جل گۓ۔
ریاستی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اس معاملے سے نپٹنے میں ناکامی کے سبب ایک پولیس انسپکٹر سمیت دو دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاؤں میں اس پنچایت کا مقصد ان افراد کو سزا دینا تھا جو سرکاری اسکولوں میں مہیا کیۓ جانے والے دوپہر کے کھانے کا سامان چراتے تھے۔
چتورگڑھ میں پولیس کے ایک سینئر اہلکار راجیندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پورے معاملے ان پانـچ افراد کا نام درج کیا گیا تھا جو اس عدالت کو چلا رہے تھے۔ ان فراد کو گرفتار کر لیا گیاہے۔
گاؤں کی عدالت نے 50 ملزموں سے کھولتے پانی میں ہاتھ ڈال کر ایک انگوٹھی ڈھونڈنے کے لیئے کہا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جو معصوم ہوگا اس کا ہاتھ نہیں جلے گا۔
اگنی پریکشا کی روایت |
سابق پارلیمانی رکن اور اور پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کے صدر تھان سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس قسم کی پنچایتیں اور عدالتیں فرسودہ روایت اور ذات پات کی بنیاد پر چلتی ہیں۔
اگنی پریکشا یعنی آگ میں جلا کر ملزم کو بے گناہی کاثبوت دینا قدیم ہندوستان کی روایت ہے۔ ہندؤں کی مذہبی کتاب رامائن میں بھی اگنی پریکشا کا ذکر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رام نے اپنی بیوی سیتا پر ناجائز تعلقات کا شک کیا تھا اور انہیں بےگناہی ثابت کرنے کے لیے اگنی پریکشا دینی پڑی تھی۔