ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں میں ممین فیملی کے چار افراد کو قصور وار قرار دیا ہے جب کہ تین کو بری کر دیا ہے۔
اس معاملے میں قصور وار پائے گئے لوگوں میں یعقوب میمن، عیسی میمن، یوسف میمن اور روبینہ میمن شامل ہیں جبکہ سلیمان میمن، حنیفہ میمن اور راحین میمن کو بری کر دیا گیا ہے۔ ایک دیگر ملزم عبد الرزاق انتقال کر چکے ہیں۔
یعقوب میمن گزشتہ دس برس سے جیل میں ہیں۔ عدالت جب یہ فیصلہ سنا رہی تھی اس وقت یعقوب عدالت میں موجود تھے۔ فیصلہ آنے سے قبل تو ان کے چہرے پر کوئی شکن دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن فیصلہ سنتے ہی وہ عدالت میں بر ہم ہوگئے ۔ انکا کہنا تھا کہ ’یہاں بےقصوروں کو دہشتگرد بنایا جا رہا ہے، یہاں سب ڈرامہ چل رہا ہے۔‘
یعقوب اور ان کی فیملی کے ارکان دھماکوں کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ لیکن اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے خودسپردگی کردی تھی اور انہیں امید تھی کہ شاید عدالت ان کے ساتھ نرمی برتے۔
ٹائگر میمن نے یعقوب کو انڈیا واپس آنے سے منع کیا تھا۔ یعقوب میمن کا شمار ممبئی کے بہترین چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس میں ہوتا تھا اور انہیں ایک ذہین شخص سمجھا جاتا تھا۔
عدالت کے باہر سرکاری وکیل اجول نگم نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جو لوگ اس واقعہ میں براہ راست ملوث تھے ان کی سزاؤں کا تعین جلد سے جلد کیا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی ہےکہ سزائيں دینے کا عمل بھی کل سے شروع ہو جائے گا۔
اس معاملے میں 123 افراد کے خلاف گزشتہ تیرہ برس سے مقدمہ چل رہا ہے۔
مافیا ڈان داؤد ابراہیم، ان کے بھائی انیس ابراہیم، ٹائگر میمن اور ان کے کئی ساتھی اس واقعہ کے اصل ملزم بتائے جاتے ہیں۔ یہ سبھی ملک سے فرار ہیں۔
ملزموں میں فلم اسٹار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ ان کے اوپر غیرقانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا الزام ہے جو فرد جرم کے مطابق مافیا ڈان ابوسالم نے فراہم کیا تھا۔ اس معاملے میں سنجے دت ڈیڑھ برس جیل میں گزار چکے ہيں اور اس وقت وہ ضمانت پر رہا ہیں۔
باقی ملزمین کا فیصلہ بدھ سے آٹھ آٹھ کے گروپ میں سنائے جانے کی توقع ہے۔