Sunday, 10 September, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مالیگاؤں
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے اتوار کی شام دو مطلوب افراد کے خاکے جاری کیے ہیں۔ مالیگاؤں میں جمعہ کے دھماکوں اور ہلاکتوں کے بعد حالات اب تک معمول پر نہیں آسکے ہیں۔
آئی جی پولیس پریم کشن جین نے بتایا کہ ان کی قیادت میں پولیس افسران کی ایک بیس رکنی ٹیم ان دھماکوں کی تحقیقات کررہی ہے۔ آئی جی پولیس نے ایسی میڈیا رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی کہ ان دھماکوں میں آر ڈی ایکس کا استعمال کیا گیا تھا۔
تاہم ایک پریس کانفرنس کے دوران پریم کشن جین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دھماکوں کی شدت کافی زیادہ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے حاصل کیے جانے والے مواد ممبئی اور پونے کی لیبارٹریز میں جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
![]() | |
| پولیس افسران کی بیس رکنی ٹیم دھماکوں کی تحقیقات کررہی ہے |
پولیس کے مطابق سہیل نے بتایا ہے کہ حملے سے ایک دن قبل دو لوگ آئے تھے اور انہوں نے دو سائیکلیں خریدیں جن کی قیمت انیس سو روپیہ فی کس تھی۔ انہوں نے سائیکلوں پر کیریئر فٹ کروائے اور پھر سائیکل پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی چلے گئے۔ اتوار کے روز پولیس ان دو افراد کے خاکے خبررساں اداروں کو جاری کیے۔
علاقے میں فاران ہسپتال کے ڈاکٹر انتخاب فارانی نے بتایا ہے کہ ہسپتال میں اب بھی 58 شدید زخمی افراد موجود ہیں جنہیں یا تو شدید چوٹیں آئی ہیں یا جسم کا کوئی حصہ ضائع ہوگیا ہے۔ ان میں 25 بچے شامل ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کئی کے جسموں میں چھرے گھس گئے ہیں جن سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ ہے۔
![]() | |
| ایک دکاندار کے مطابق حملے سے ایک دن قبل دو لوگ سائیکل خریدنے آئے تھے |
پی کے جین نے یہ بھی بتایا کہ مالیگاؤں دھماکوں کے بعد بھی اس اخبار کو ایک نامعلوم شخص کی جانب سے فون کیا گیا ہے جس میں وارننگ دی گئی ہے کہ ہندو علاقوں میں بھی دھماکے کیے جائیں گے۔
مالیگاؤں کے بیشتر لوگوں کے روز گار کا انحصار پاور لوم فیکٹری کے خام مال کی فروخت پر ہے۔ تاہم کاروباری سرگرمیاں اب تک معمول پر نہیں آسکی ہیں۔ یہ خام مال عموماً گجرات سے آنے والے غیر مسلم تاجر خریدتے ہیں۔ پاور لوم ایکشن کمیٹی کے کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالعزیز مقادم کا کہنا ہے کہ تاجروں نے ہنگاموں کے ڈر سے اب تک خام مال نہیں خریدا ہے۔
شہر میں خدشات کے برعکس فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے ہیں۔ جمعہ کے دھماکے کے بعد لوگوں نے اے ایس پی انیل کمارے پر پتھراؤ کیا تھا اور ان کی گاڑی کو آگ لگادی تھی تاہم پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی اور نہ ہی لاٹھی چارج کیا۔
کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مرکزی وزیر شیوراج پاٹیل کے ہمراہ سنیچر کو شہر مالیگاؤں کا دورہ کیا۔ مرکزی حکومت کے وزیر نے جب دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ کے چیک تقسیم کرنے شروع کیئے تو وہا ں تنازع کھڑا ہوگیا۔
مہارشٹرا کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعتراض کیا اور کہا کہ جب ممبئی میں بم دھماکے ہوئے تو متاثرین کو ریاستی حکومت کی جانب سے ایک ایک لاکھ کے چیک دیئے گئے جبکہ ریلوے نے ہر مرنے والے کے لواحقین کو پانچ لاکھ کا چیک دیا تھا۔