Monday, 04 September, 2006, 11:07 GMT 16:07 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
یونائٹیڈ پروگریسو الائنس یا یو پی اے تین وزراء کی مدد سے جھارکھنڈ حکومت کو معزول کرانے میں کوشاں ہے۔
غالباً یہ جھارکھنڈ کی معدنیات کا اثر ہے کہ رانچی کا سیاسی درجہ حرارت وہاں کی صنعتی بھٹیوں کی طرح اکثر اپنی انتہا پر ہی رہتا ہے۔
جب ملک میں منفعت بخش عہدوں کے تنازعہ کے بعد سونیا گاندھی کو پارلیمان کی رکنیت سے استعفی دینا پڑا تھا تو اس وقت جھارکھنڈ کی سیاست بھی گرما گئی تھی اور ریاست کی ارجن منڈا حکومت خطرے میں پڑ گئی تھی۔
خیمہ بدنے والے وزیر |
اس بار تین وزراء مدھو کوڑا، اینوس ایکّا اور ہری نارائن کے خیمہ بدلنے کی خبر سے ارجن منڈا کی حکومت کا بچنا مشکل بتایا جا رہا ہے۔
رانچی کے سیاسی حلقوں کے مطابق حزب اختلاف یونائٹیڈ پروگریسو الائنس یا یو پی اے مذکورہ تینوں وزراء کی مدد سے منڈا حکومت کو اقلیت میں لاکر معزول کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس کوشش میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رہنما اور چند دنوں کے لیۓ وزیراعلیٰ کی کرسی پر فائز رہنے والے شیبو سورین، وزیر ریلوے لالو پرساد اور کانگریس کے سینئر لیڈر شامل بتائے جاتے ہیں۔
ارجن منڈا حکومت اکیاسی ممبر والوں اسمبلی میں بے حد معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔
بعض سیاسی مبصروں کے مطابق یو پی اے نے مدھو کوڑا کو وزیراعلی کا عہدہ دینے کی پیش کش کی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلی ارجن منڈا اپنی حکومت کو درپیش کسی قسم کے خطرے سے انکار کرتے ہیں لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کی ان تین وزراء سے بات ہوئی ہے جو یو پی اے کے ساتھ بتائے جا رہے ہیں تو انہوں نے صحافیوں کو اس کا پتہ لگانے کے لیئے کہا۔
تبدیلئی مذہب پر اختلافات |
ارجن منڈا کا تعلق بی جے پی سے ہے اور حلیف جماعت جے ڈی یو سے تبدیلی مذہب جیسے بعض موضوعات پر دونوں میں اختلاف بھی رہا ہے۔
حکومت کو لاحق تازہ خطرے کے سلسلے میں جے ڈی یو کے وزیر رمیش سنگھ منڈا کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں الیکشن ہی بہتر متبادل ہے۔