Sunday, 03 September, 2006, 14:12 GMT 19:12 PST
ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر کی ممبئی عدالت نے جولائی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
گیارہ جولائی کو ممبئی کی ’لائف لائن‘ کہی جانے والی لوکل ٹرینوں ميں سات مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے تھے جس میں ایک سو بیاسی سے زيادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ممبئی پولیس کی ای ٹی ایس یعنی اینٹی ٹیررزم سکواڈ کے چیف کے پی رگھو ونشی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ توفیق اکمل نامی شخص کو آئندہ تیرہ تاریخ تک پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شخص کا تعلق شدت پسند گروپ البدر سے ہے۔
مسٹر رگھو ونشی نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ہونے والا شخص پاکستانی شہری ہے اور اسے گزشتہ ہفتے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے ایک پروگرام میں توفیق اکمل کو ممبئی بم دھماکوں کے بارے ميں بات چیت کرتے ہوئے دکھایا تو اے ٹی ایس نے کشمیر میں اپنے ہم منصب سے اکمل کو ان کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی۔
![]() | |
| پولیس افسر رگھو ونشی نے بتایا کہ اس شخص کا تعلق شدت پسند گروپ البدر سے ہے |
اطلاعات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص سے پوچھ گچھ کے بعد ممبئی بم دھماکوں سے متعلق اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں۔
ممبئی پولیس نے جولائی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں کئی افراد بھی گرفتار کیے ہیں۔
ان دھماکوں کے بارے میں ہندوستان نے الزام عائد کیا تھا کہ حملوں میں ان دہشت گرد تنظیموں کاہاتھ ہے جو پاکستان میں سرگرم ہیں لیکن پاکستان نے ان تمام الزمات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ بم دھماکوں کی تفتیش میں وہ ہندوستان کی ہرممکنہ مدد کے لیئے تیار ہے۔