Wednesday, 30 August, 2006, 10:43 GMT 15:43 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
شاعر مشرق علامہ اقبال کے سب سے بڑے پوتے آزاد اقبال کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دادا کے پیغام کو موسیقی کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقبال کے کلام پر بہت کام کیا ہے۔ علامہ کے کلام میں زیرو بم بہت زیادہ ہیں۔ ان کی فلسفیانہ شاعری کے لیئے موسیقی کمپوژ کرنا مشکل
عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام پر بہت کم کام ہوا ہے۔
آزاد اقبال علامہ اقبال کے سب سے بڑے بیٹے آفتاب اقبال کے بیٹے ہیں۔ ان کی تعلیم لندن میں ہوئی ہے اور وہ ملک کے باہر رہتے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور شاعری و موسیقی ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ ایک ادبی محفل کے لیئے ’انڈین کونسل فار ورلڈ افیئر‘ نے انہیں دلی آنے کی دعوت دی تھی۔
دانشوروں سے پر ایک سٹیڈیم میں کلاسیکل موسیقی کے ساتھ آزاد اقبال نے اپنے دادا کی نظمیں گنگنائیں تو لوگ مستی سے جھوم اٹھے۔
محفل ’پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ دمن، ہم کو پھر نغموں یہ اکسانے لگا مرغ چمن‘ سے شروعات ہوئی اور دو گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے غالب سمیت کئی شعراء کا کلام پیش کیا لیکن سامعین زیادہ سے زیادہ اقبال کا کلام سننا چاہتے تھے۔
![]() | |
| کلاسیکل موسیقی کے ساتھ آزاد اقبال نے اپنے دادا کی نظمیں گنگنائیں تو لوگ مستی سے جھوم اٹھے |
آزاد اقبال اپنے دادا کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عام طور پر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ علامہ اقبال بھی ایک دنیا دار انسان تھے اور ان کے لیئے ان کی وہی زندگی محبوب ہے۔
آزاد اپنے والد آفتاب اقبال کے حوالے سے بتاتے ہیں’شام کو جب علامہ صحن میں بیٹھتے تھے تو بہت سے لوگ ان سے ملنے آتے تھے۔ وہ جب باتیں کرتے تو ایسا لگتا تھا جیسے علم کا دریا بہہ رہا ہو لیکن انہیں کبوتر بازی کا بھی شوق تھا اور کبوتروں کی تمام اقسام کا علم رکھتے تھے۔ کوئی پہلوان آجائے تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ انہیں اس سے بھی دلچسپی تھی۔ اگر کوئی جوہری آجائے تو گھنٹوں قیمتی پتھروں کی خصوصیات پر گفتگو کرتے رہتے تھے‘۔
آزاد اقبال نے علامہ کی شاعری پر کافی کام کیا ہے اور کہتے ہیں کہ موسیقی کے ساتھ لوگ ان کے پیغام کو بہتر طور پر یاد رکھ سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے تقریبًا ایک کتاب کمپوژ کر لی ہے اور میں چاہتا ہوں اقبال کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلاؤں۔ آج کے نوجوانوں تک ان کے آفاقی پیغام کا پہنچنا ضروری ہے‘۔
بھارت کا یہ ُان کا پہلا دورہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی اعتبار سے اس قدر مماثلت ہے کہ جیسے ان کی واپسی اپنے ہی گھر میں ہوئی ہو۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری دوستی کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوسکتا۔