Thursday, 24 August, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کے چڑیا گھر سینکڑوں شیروں، چیتوں، بھالوؤں اور ٹائیگرز کا مسکن ہیں لیکن ان میں سے بیشتر جانور تن تنہا ہیں۔ ان کے جوڑے فراہم نہ کیۓ جانے کے سبب بیشتر جانور مجرد زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور جنگلات اور ماحولیات کی وزارت سمیت چڑیا گھر کے حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ آخر جانوروں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں برتا جا رہا ہے۔
جانوروں کے لیئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم پیٹا یعنی ’پیوپل فار ایتھکل ٹریرٹمنٹ آف اینملز‘نے ملک کے کئی چڑیا گھروں کے جائزے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ کی لا پرواہی کے سبب بہت سے جانور تنہا زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ انکی جنسی زندگی بہتر کرنے کے لیے تنظیم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے اور عدالت نے متعلقہ محکموں سے جواب طلب کیا ہے۔
مسٹر پنجوانی نے بتایا کہ قانون کے مطابق جانوروں کو انکے سماجی گروپ میں رکھنا اور انہیں انکا ساتھی مہیا کرنا ضروری ہے۔
![]() | |
| تنظیم کی سربراہ انورادھا سہانی |
انورادھا نے بتایا کہ تنظیم نے سب سے پہلے ممبئی کے چڑیا گھر کے متعلق ممبئی ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا تھا لیکن جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ملک تقریباً سب ھی چڑیا گھروں کی حالت ایک جیسی ہے اس لیئے سپریم کورٹ میں آنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔
مسٹر پنجوانی کے مطابق حکومت چڑیا گھروں کی دیکھ بھال کے لیئے کروڑوں روپیۓ خرچ کرتی ہے لیکن اس سے کوئی مقصد حل نہیں ہوتا ہے۔ ’چڑیا گھر میں جانوروں کو ایسے رکھنے کا حکم ہے کہ انہیں کبھی بھی جنگل میں دوبار چھوڑا جا سکے لیکن زیادہ تر جانور دکھاوے کے لیئے ہیں اورجنگل میں انہیں دوبارہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔‘
چڑیا گھر کے حکام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نظام میں بعض خامیاں ہیں اور کچھ چڑیا گھروں میں کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن افسران نے سپریم کورٹ کے نوٹس کے متعلق کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔
تنظیم پیٹا کا کہنا ہے کہ نہتا جانوروں کے جوڑے تلاش کرنے کے لیئے انہیں پیسےملتے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ جانورں کو کھانا ملتا ہے لیکن بھاگتے پھرنے کا موقع نہیں ملتا اس لیئے قبض اور ٹی بی جیسے امراض میں مبتلا ہیں اور پنجرے میں تنہا بند رہنے والے بہت سے جانور تو پاگل ہوگئے ہیں۔ پیٹا کا کہنا ہے کہ ممبئی کے چڑیا گھر میں اصلاحات کے سبب حالات بہتر ہوئے ہیں اور اسے امید ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ملک کے دیگر چڑیا گھروں میں بھی حالات اچھے ہوجائیں گے۔