Monday, 14 August, 2006, 19:46 GMT 00:46 PST
ریاض مسرور
بی بی سی، ڈاٹ کام سرینگر
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پندرہ اگست کو انڈین یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات اس قدر سخت ہیں کہ کم سن بچے ویڈیو کیمرہ ہاتھ میں لیئے خود حالات کا مشاہدہ کرنے لگے ہیں۔
سکیورٹی بندوبست کی وجہ سے کئی سکول پہلے ہی چھٹیوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہفت چنار اور ملحقہ بستیوں کے رہنے والے بچوں نے چھٹیوں کا بہتر استعمال کرنے کے لیئے ’پریس‘ نامی کھیل ایجاد کیا اور کیمرہ لے کر باہر گھومنے لگے۔
گیارہ سالہ باسط مشتاق اور سیرت معراج کی قیادت میں دو ’میڈیا ٹیموں‘ نے سٹیڈیم کے گرد و نواح کی فلم بندی کی۔ باسط کا کہنا ہے کہ ’ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ میڈیا کیسے کام کرتا ہے۔ انہوں نے فورسز کے کئی اہلکاروں سے سوالات بھی کیئے۔
ایک سپاہی سے انہوں نے پوچھا کہ ’آپ پندرہ اگست کے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘۔
تو جواب ملا: ’جو صبح شام ہوتا ہے وہی سوچتے ہیں‘۔
پندرہ اگست ہندوستان کا یوم آزادی ہوتا ہے۔ اس روز کشمیر میں بھی حکومت (ہندوستانی) پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔ بخشی اسٹیڈیم میں سب سے بڑی تقریب ہوتی ہے۔ اس سال یہاں وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پریڈ پر سلامی لیں گے۔
پچھلے سترہ سال سے پندرہ اگست سے کئی روز قبل ہی سکیورٹی انتظامات کا سسلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بخشی سٹیڈیم کے گرد پانچ کلومیٹر کی پٹی کو عام آمد و رفت کے لیئے سیل کیا جاتا ہے۔
شہر میں اندرونی سلامتی کے لیئے ذمہ دار سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل اے پی مہیشوری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر پندرہ اگست کی تقریب کو محفوظ بنانے کے لیئے کوئی ’چانس‘ نہیں لے رہے ہیں۔ مسٹر مہیشوری کا کہنا تھا کہ روایتی بندوبست، جس میں سٹیڈیم کے گرد کئی حفاظتی حصار باندھنا بھی شامل ہے، کے علاوہ سول کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو بھی اہمیت دی جارہی ہے۔ تقریب کے جائے وقوع کے گرد اونچی عمارتوں پر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے اور ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر گزر رکھی جا رہی ہے۔
![]() | |
| ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر گزر رکھی جا رہی ہے |
گزشتہ چند ہفتوں سے پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پندرہ اگست کی تقریب کے حوالے سے عوامی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ لیکن آئی جی سی آر پی ایف کہتے ہیں کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران پولیس اور سی آر پی کی مشترکہ کارروائیوں میں تیس ملیٹنٹ گرفتار کیئے گئے جبکہ نصف درجن کوہلاک کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ملی ٹنٹوں اس وقت دباؤ میں ہیں‘۔
اس دوران بعض علیٰحدگی پسند جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی کی آڑ میں عام لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے حریت کانفرنس دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے آج ایک بیان میں کشمیر اور لبنان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لبنان میں اسرائیل کی طرح ہندوستان نے بھی کشمیری عوام پر یک طرفہ جنگ مسلط کر دی ہے‘۔
عوامی حلقوں میں بھی اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے۔ لال چوک کے ایک دوکاندار محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ’اگر شہر کے وسط میں خطرہ ہے تو یہ تقریب شہر سے باہر کیوں نہیں کرائی جاتی۔ تین روز تک شہریوں کو یرغمال بنانے کی کیا ضرورت ہے‘۔
ہمیشہ خوف رہتا ہے |
ہفت چنار کے ہی ایک معزز شہری نے چودہ اور پندرہ اگست سے کی یادوں کے بارے میں بی بی سی کو بتایا: ’جب ملیٹنسی شروع ہوئی تو چودہ اگست کو مسلح گروپ یوم پاکستان مناتے تھے۔ ان کی تصویریں بھی اخباروں میں چھپتی تھیں۔ وقت بدل گیا۔ اب تو سی آر پی والے لال چوک میں ترنگا لہراتے ہیں لیکن لوگ ہمیشہ خوف میں ہی رہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ چودہ اور پندرہ اگست دونوں خطرناک دن ہوتے ہیں۔ میرا یوم آزادی تو سولہ اگست کو ہوگا، جب اس بندوقی ماحول سے نجات ملے گی‘۔