Thursday, 10 August, 2006, 09:35 GMT 14:35 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی میں سن انیس ترانوے میں ہونے والے بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ بارہ ستمبر تک کے لیئے مؤخر کردیا گیا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ دس اگست کو آنے والا تھا لیکن خصوصی ٹاڈا عدالت نے بارہ ستمبر کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔
فلم سٹار سنجے دت سمیت بمبئی بم دھماکے کے ایک سو تیئس ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ وکیل دفاع فرحانہ شاہ نے کارروائی شروع ہوتے ہی عدالت کو بتایا کہ ایک ملزم ابو سالم کا کیس ہائی کورٹ میں ہے اور عدالت نے اس کی سماعت کی تاریخ چودہ اگست دی ہے۔ فرحانہ کا کہنا تھا کہ اس کیس کا تعلق بھی اسی معاملے سے ہے اس لیے ان کی اپیل کا فیصلہ آنے تک اس فیصلے کو مؤخر کیا جائے لیکن سرکاری وکیل اجول نکم نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اجول نے جواز دیا کہ مذکورہ عدالت نے اس عدالت کے فیصلہ پر کسی طرح کا اسٹے نہیں دیا ہے اس لیے فیصلہ مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
ممبئی کے جوائنٹ پولیس کمشنر اروپ پٹنائیک نے کہا کہ فیصلے کو بارہ ستمبر تک ملتوی کرنے کا مقصد شہر میں اس وقت امن و امان کی صوت حال کو برقرار رکھنا ہے۔
![]() | |
| سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے |
سرکاری وکیل اجول نکم نے بتایا کہ عدالت کا فیصلہ کم سے کم ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس کیس کے اہم ملزمان ابھی بھی ملک سے باہر ہیں ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا لیکن جن ملزمان نے تفتیش کے دوران ان کے خلاف گواہی دی ہے وہ ان کی گرفتاری کے وقت بطور ثبوت استعمال کی جا سکتی۔
یہ مقدمہ آرتھر روڈ جیل میں چل رہا ہے جہاں بڑی تعداد میں پولس تعینات کی گئی تھی۔ جیل کے اطراف کا علاقہ پوری طح پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
ممبئی میں سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔ ستائیس کروڑ روپے کی املاک تباہ ہوگئیں تھیں۔
تیرہ برس تک چلنے والے اس مقدمے کے بارے میں وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے طویل مقدمہ ہے جس میں ایک سو تئیس ملزمان ہیں۔ ملک کی تاریخ کا یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں پولیس اور سی بی آئی کی تفتیش کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئي کو مبینہ طور پر ملوث بتایا گیا۔