Friday, 28 July, 2006, 14:59 GMT 19:59 PST
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سویلین جوہری معاہدہ کی امریکی ایوان نمائندگان سے منظوری پر ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے محتاط رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان نےاس معاہدے کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔ اس معاہدہ پر امریکی سینیٹ کی منظوری ابھی باقی ہے جس کے بعد ہی صدر جارج بش اس پر دستخط کریں گے جس سے یہ قانون کا درجہ حاصل کرلے گا۔
اس معاہدے کے تحت ہندوستان کو امریکہ کی سویلین جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائےگی لیکن اس کے تحت ہندوستان کے ری ایکٹر بین الاقوامی معائنے کے دائرے میں آجائیں گے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ہندوستان نے اب تک اس پر دستخط نہیں کیے ہیں۔
ہندوستان کے اخبارات لکھتے ہیں کہ سینٹ کی منظوری مل جانے کے باوجود اس معاہدے پر عمل در آمد میں کچھ وقت لگے گا۔
انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس’ نے لکھا ہے کہ اس نئے معاہدے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ ایک گہرا رشتہ چاہتا ہے اور اب امریکی کانگریس میں ہندوستان کو زیادہ توجہ ملے گی۔ ساتھ ہی اخبار لکھتا ہے کہ اس جوہری معاہدے کے عمل میں آنے میں ابھی وقت لگے گا۔
روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ کے ساتھ یہ معاہدہ ایک جیت ہے۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اس بل میں ہندوستان کے لیے کچھ نازک موڑ اس وقت آئے جب اس میں کئی نئی ترامیم کی گئیں۔
اخبار ’دی اکنومک ٹائمز’ لکھتا ہے کہ جیسا کہ پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ اس بل کی زبان بدلتی رہتی ہے اس لیے ہندوستان کو بہت سمجھداری سے کام لینا ہوگا کہ امریکہ اصلی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اسطرح کے عالمی معاہدے لین دین پر چلتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ یہ معاہدہ صحیح ہے یا نہیں۔
انگریزی اخبار دی ٹائمز آف انڈیانے لکھا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی مخالفت کے سبب ہی حکومت نے اس معاہدے کی منظوری پر فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
انگریزی اخبار ’دی ٹریبیون’ کا کہنا ہے کہ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہندوستان اصل معاہدے سے اپنا دھیان نہیں ہٹائےگا۔ اس معاہدے سے اس کے لیے عالمی دروازے کھل جائیں گے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ امریکہ کسی اور شرط کو ہندوستان کے سامنے نہیں رکھے گا ۔
دی ٹیلیگراف نے لکھا ہے کہ جس طرح کی بجث امریکی پارلیمنٹ میں ہوئی اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ میں ہندوستان کے حمایتیوں نے اس معاہدے کو عمل میں لانے کے لیے کتنی محنت کی ہے۔