ریاض مسرور
بی بی سی ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے مجوزہ دور کشمیر کے موقع پر علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
صدر جمعرات کو کشمیر کا دو روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں۔ صدر کشمیر کی قانون سازی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے علاوہ ہائی کورٹ کی پچھہترویں سالگرہ کے سلسلے میں گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح بھی کریں گے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران وادی میں ہندوستان کی اہم ترین شخصیات کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل چوبیس اور پچیس مئی کو گول میز کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی یہاں آئے تھے۔
علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز آنے جانے والوں سے پوچھ تاچھ اور تلاشی کا کام کر رہی ہیں تو دوسری طرف لوگ جمعہ اور ہفتہ کو ہڑتال کی کال کے پیش نظرضروری سازوسامان کی خریداری کر رہے ہیں۔
اُنیس سو ستتر میں جب اس وقت کے صدر نیلم سنجیوا ریڈی کشمیر آئے تھے تو انہوں نے شہر کے بیچوں بیچ، دریائے جہلم کے کنارے واقع اسمبلی ہال میں ممبران اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔
موجودہ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ستائیس سال بعد پہلی بار کوئی ہندوستانی صدر اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے خطاب کر رہا ہے اور تقریب کا جائے وقوع اسمبلی ہال نہیں بلکہ جھیل ڈل کے کنارے واقع انتہائی
سخت سکیورٹی حصار والا عالمی کنوینشن سینٹر مقرر کیا گیا ہے۔ صدر کلام کی آمد سے قبل کشمیر کے چپے چپے پر اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
گول میز کانفرنس کے دوران یہاں وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موجودگی میں شدت پسندوں نے کانگریس کی ریلی پر خودکش حملہ کیا تھا جس میں انڈین سکیورٹی فورس اور مقامی پولیس کے کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔
کشمیر میں انسداد دہشت گردی مہم کی قیادت کرنے والی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل اے پی مہیشوری نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اعتراف کیا کہ شدت پسندوں کی طرف سے اس دورے کو ’سبوتاژ’ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
علٰیحدگی پسندوں کے سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے صدر کلام کی آمد پر دو روز ہڑتال کی کال دی ہے۔
اکژ حلقے مانتے ہیں کہ وی آئی پی شخصیات کی کشمیر آمد کے موقع پر ہڑتال سکیورٹی ایجنسیوں کا کام آسان کر دیتی ہے کیونکہ معمول کی گہما گہمی میں شدت پسندوں کو حملہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے جبکہ ہڑتال کے دوران ایسا آسانی سے ممکن نہیں۔
سی آر پی چیف مہیشوری اس بات کی تردید یہ کہہ کرکرتے ہیں کہ’ہمیں لوگوں سے کوئی تکلیف نہیں ہے’۔
گو کہ ممبئی بم حملوں کے بعد ہندوپاک تعلقات میں تلخی کے بعد صدر کا دورہ کسی قسم کی سیاسی توقعات پیدا نہیں کر پایا ہے تاہم مبصرین کا ایک حلقہ اس دورے کو کافی اہمیت دیتا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ یہ 'ہائی پرفائل دورہ' وزیراعظم کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے کئی پہلووں کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپوں کی تشکیل کے بعد ہو رہا ہے۔ لہذا صدر کا خطاب نہایت معنی خیز ہوگا لیکن بعض کا ماننا ہے کہ ہندوستانی صدر کا دورہ محض علامتی ہوا کرتا ہے کیونکہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی کو بائی پاس نہیں کر سکتے۔
لال چوک میں پچھلے بیس سال سے میوہ بیچنے والے عبدالرحمٰن کا کہنا ہے’جب صدرسنجیوا ریڈی آئے تھے تو نہ سکیورٹی تھی اور نہ ہی اتنی پابندیاں مگر آج جب کوئی آتا ہے ہم پر مصیبت آتی ہے’۔