http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 26 July, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST

فردوس اے ٹاک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جموں

لشکر طیبہ کی مدد، 4 اہلکار زیرِ تفتیش

بھارت کے زیرِانتظام جموں و کشمیر میں حکام فوج کے ان جوانوں اور پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جن پر عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی مدد کرنے کا الزام ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی پوچھ گچھ سے کوئی ٹھوس حقائق سامنے نہیں آئے ہیں۔

بھارتی فوج نے اس معاملے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ذرائع ابلاغ میں یہ خبر فوج کی جانب سے ہی دی گئی تھی۔ وزیر دفاع پرنب مکھر جی نے پارلیمان کے اجلاس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلیجنس نے دو ہفتے قبل جموں کے سنجوا‎ں علاقے سے دو فوجیوں کوگرفتار کیا تھا۔ ان فوجیوں پر لشکر طیبہ کے ساتھ پچھلے ایک سال سے کام کرنے کا الزام ہے۔

گرفتار کیئے گئے عبدالحق اور محمد شکیل پونچھ علاقے میں گرسی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور دونوں کا تعلق جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری سے ہے۔گرفتاری سے پہلے دونوں ہماچل پردیش میں یول کیمپ میں تعینات تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان فوجیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب یہ لوگ چھٹی کے بعد واپس جا رہے تھے۔

جموں و کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل ایس پی وید نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ٹیپو نامی مبینہ شدت پسند کی گرفتاری سے جموں میں لشکر طیبہ کے ایک منصوبے کا پردا فاش ہوا اور یہ گرفتاریاں انہی معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

مسٹر وید نے کہا کہ’پوچھ گچھ کے دوران ٹیپو نے بتایا کہ دو پولیس اور دو فوجی جوان عسکریت پسندوں کی مدد کرتے ہیں جس کے بعد ان چاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جو موبائل فون ٹیپو استمال کر رہا تھا اس کے ریکارڈ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گرفتار کیئے گئے فوجی عسکریت پسندوں کی مدد کرتے تھے‘۔

مسٹر وید نے مزید بتایا کہ دونوں فوجیوں سے فوج خود پوچھ گچھ کر رہی ہے جب کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکندر اور کبیر حسین نامی دونوں اہلکاروں نے پولیس حراست میں نہ صرف اپنا جرم قبول کیا ہے بلکہ یہ بھی مانا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی مدد کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ’یہ چاروں لوگ ان کے علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کو موبائل کے سم، وائرلیس بیٹری اور دوائيں فراہم کرتے تھے‘۔ اب تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ گرفتار کیئے گئے افراد عسکریت پسندوں کی مدد کیوں کرتے تھے۔ مسٹر وید کا کہنا ہے کہ’مزید تفتیش جاری ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے خاندان کی سلامتی کے لیئے مجبوری میں ایسا کرتے ہوں‘۔

انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس خطے کے دوردراز علاقوں میں رہنے والے فوجیوں اور پولیس والوں کے خاندان کی جانوں کو خطرہ رہتا ہے۔