Monday, 24 July, 2006, 13:26 GMT 18:26 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نرسمہا راؤ کے اقتدار میں ان کے دفتر سے کوئی اہلکار جوہری راز چوری کر رہا تھا۔
جسونت سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں اس کے بارے میں تقریباً دس برس قبل پتہ چلا تھا۔
انہوں نے گزشتہ دنوں شائع اپنی کتاب ’اے کال ٹو آنر‘ میں لکھا ہے کہ ان کے پاس ایک خط ہے جس میں ساری باتیں بہت تفصیل سے بتائی گئی ہیں۔
انہوں نے کسی کا نام نہیں بتایا اور کہا ’وزیراعظم کے دفتر میں ایک اہلکار تھا جو جوہری معاملوں کی جانکاری امریکہ کو دے رہا تھا‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کہ واجپئی حکومت کے قیام کے بعد اس کے بارے میں پتہ چلا تاہم انہوں نے اس کے بارے میں امریکہ سے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا کیونکہ بقول ان کے ساری حکومتیں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ان کے اس انکشاف سے ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور حکمران کانگریس پارٹی پہلے ہی یہ اشارہ کر چکی ہے کہ وہ اس الزام کو آسانی سے نہیں لے گی۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے جسونت سنگھ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اس اہلکار کا نام بتائیں جو مبینہ طور پر جاسوسی کر رہا تھا۔
کانگریس کا کہناہے کہ اگر وہ اس کے بارے میں دس برس سے جانتے تھے تو انہوں نے اتنے دنوں تک خاموشی کیو ں اختیار کر رکھی تھی۔
مسٹر سنگھ نے انڈین ائر لائن کے طیارے کے اغواء کا مفصل ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ اغوا کاروں کے مطالبے پر ’تین دہشت گردوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کابینہ نے متفقہ طور پر کیا تھا‘۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا اغواء کاروں کو کوئی رقم بھی ادا کی گئی تھی یا نہیں۔
مسٹر سنگھ نے ایک انٹرویو میں اس الزام کی تردید کی ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں کو کوئی رقم دی تھی۔ حقیقت جو بھی ہو، اس معاملے کا پارلیمنٹ میں اٹھایا جانا لازمی ہے۔
مسٹر سنگھ نے اپنی اس کتاب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بی جے پی رام مندر تحریک کے حامیوں کو بابری مسجد کے انہدام سے نہیں روک سکی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گجرات کے فسادات نے واجپئی حکومت کی کو شدید نقصان پہنچایا۔