Friday, 21 July, 2006, 14:27 GMT 19:27 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد دکن
حیدرآباد دکن کے قلب میں واقع وسیع و عریض حسین ساگر جھیل میں گزشتہ 26 برسوں سے گنیش جی کی ہزاروں مورتیوں کے وِسرجن کا جو سلسلہ چلا آرہا ہے اس کے مستقبل پر اب ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ وِسرجن اہم تہواروں پر ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں کو مذہبی رسم کے طور پر پانی میں غرقاب کرنے کو کہتے ہیں۔
مورتیوں کی غرقابی سے پیدا ہونے والی آلودگی پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے-
چیف جسٹس جی ایس سِنگھوی اور جسٹس جی وی سیتاپتی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریمارک کیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ کو روکنے کی کسی میں ہمت ہے اور نہ ہی سیاسی قوت ارادی- اس کے برعکس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے معاملے پر سیاستدانوں کا زیادہ اثر ہے-
ہائی کورٹ نے گنیش مورتیوں کے وِسرجن کے معاملے میں یہ ریمارکس ایک ایسے وقت کیے ہیں جبکہ ایک طرف گنیش چتورتھی کا تہوار صرف دو مہینے دور رہ گیا ہے اور دوسری طرف ماہرین ماحولیات جھیل میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کو لے کر بہت پریشان ہیں-
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 10250 بڑی مورتیاں حسین ساگر جھیل میں سپرد آب کی گئی تھیں جن کا سائز 50 فٹ سے لے کر 10 فٹ تک تھا اور اس کے نتیجے میں 7 ہزار ٹن پلاسٹر آف پیرس، 150 ٹن لوہا اور 50 ٹن دوسری چیزیں حسین ساگر جھیل میں جمع ہوگئی تھیں۔
کیونکہ مورتیوں کی غرقابی کا سلسلہ ایک چوتھائی صدی سے چلا آرہا ہے اس لیے جھیل کی گہرائی پر بھی اس کا برا اثر پڑا ہے- حکام کا کہنا ہے کہ جھیل کبھی 60 فٹ گہری تھی اب گھٹ کر 20 فٹ رہ گئی ہے-
دوسری طرف حکومت نے ایک متوازی کوشش کے طور پر عام ہندوؤں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ حسین ساگر آنے کی بجائے اپنے قریبی جھیلوں اور تالابوں میں وِسرجن کریں- حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (حڈا) کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر کے سگناکر ریڈی کا کہنا ہے کہ اس کوشش میں کسی حد تک کامیابی ملی ہے-
حڈا اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے ایک اور منصوبے پر کام کررہا ہے۔ جھیل کی بحالی اور صفائی کے لیے جاپان سے 316 کروڑ روپے کا جو قرض لیا گیا ہے اس کے تحت جھیل کے ایک حصے پر 12 ایکڑ کا ایک ایسا تالاب بنایا جائے گا جو صرف مورتیوں کی غرقابی کے لیے استعمال کیا جائے گا- لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کورٹ اسے قبول کرتی ہے یا نہیں-