Wednesday, 19 July, 2006, 12:27 GMT 17:27 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھوپال میں گرفتار کیے جانے والے ایک شخص کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص نے ممبئی بم دھماکوں کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کو بھیجے جانے والے ایک مبینہ ای میل پیغام میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
بھوپال پولیس کے انسپکٹر جنرل سنجیو سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے نوجوان کا تعلق بھوپال سے ہے اور اس کی شناخت سومت تامرکار کے طور پر کی گئی ہے۔ سومت کا کہنا ہے کہ اس نے یہ ای میل محض سنسنی پیدا کرنے کے لیے بھیجی تھی۔
اس ای میل میں کہا گیا تھا کہ یہ ای میل ’لشکر قہار‘ نامی تنظیم کی طرف سے بھیجی گئی اور اس میں ممبئی بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان دھماکوں میں سولہ افراد نے حصہ لیا تھا۔
ای میل میں مزید بتایا گیا تھا کہ یہ دھماکے تو محض آغاز ہیں اور تنظیم اس سے بھی بڑے دھماکوں کی تیاری کر رہی ہے۔ اس میں چند ماہ قبل بنارس کے ایک اہم مندر پر کیا گئے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی۔ پولیس سومت
سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس نے سولہ جولائی کو بھیجی گئی ای میل کے بعد سٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈیا یعنی ’سیمی‘ کے کارکنوں کے شبہے میں کئی افراد کو گرفتار
کیا تھا۔ یہ شبہ کیا جا رہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ میل ’سیمی‘ کے کارکنوں نے بھیجی ہو۔
ادھر ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش جاری ہے لیکن بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
انسداد دہشت گردی سکواڈ نے تفتیش کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ پولیس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ادارے کسی مخصوص سراغ کی بنیاد پر تفتیش کر رہے ہیں اور بقول ان کے تفتیش صحیح سمت میں
جا رہی ہے۔ ممبئی میں جن افراد پولیس نے پوچھ گچھ کے لیئے گزشتہ دنوں حراست میں لیا تھا ان سب کو ہی تقریبًا رہا کر دیا گیا ہے۔