http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 15 July, 2006, 17:08 GMT 22:08 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

’اب امن کا عمل مشکل ہوگیا ہے‘

انڈیا میں حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی بم دھماکوں کے بعد پاکستان کے ساتھ امن کے عمل کو جاری رکھنا ایک مشکل امر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سکریٹریوں کی سطح کی بات چیت کے لیئے کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔ یہ بات چیت نئی دلی میں آئندہ ہفتے ہونے والی تھی۔

پاکستان پر بھارت کا موقف سخت

خارجہ سکریٹری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیئے یہ ضروری ہے کہ عوام حکومت کے ساتھ ہوں۔ ان کا اعتماد حاصل کیئے بغیر حکومت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نےکہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ امن اور دوستی قائم کرنے کی اپنی پالیسی پر ‍‌‍‍قائم ہے لیکن ’امن کا عمل پاکستان کے اس وعدے سے وابستہ ہے جس میں اس نے دہشت گردی کو نہ بڑھنے دینے کی بات کی تھی‘۔

شیام سرن نے کہا کہ جب بھی اس طرح کے دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں عوام کے اعتماد کو دھچکا لگتا ہے۔ لوگوں کا جوش پھیکا پڑتا ہے اور عوام میں غم و غصہ پیدا ہوتا ہے۔

’ہمیں یہ پسند ہویا نہ ہو لیکن اس سے امن کے عمل پر سوال تو اٹھتے ہی ہیں۔ میری سمجھ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ان دہشت گردانہ حملوں کے بعد امن کے عمل کو آگے بڑھانا مشکل ہوگیا ہے‘۔
شیام سرن کا کہنا تھا کہ ممبئي کے بم دھماکوں کا عالمی دہشت گردی سے تعلق ہے اور بھارت کی کوشش ہوگی کہ جی ایٹ کی عالمی سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کے معاملے کو وہ اٹھائے اور عالمی طاقتیں اس پر سخت رویہ اپنائیں۔

بھارتی پارلمیان کا ایک وفد کامن ویلتھ کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیئے آئندہ ہفتے اسلام آباد جانے والا تھا لیکن ممبئی بم دھماکوں کے پس منظر میں اس وفد نے بھی اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

گزشتہ روز نئی دلی میں وزارت خارجہ کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے والی خارجہ سکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت ملتوی کردی گئی ہے۔