Thursday, 13 July, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
’میرا بیٹا ممبئی کمانے آیا تھا لیکن اس شہر نے اس کی جان لے لی۔ کوئی مجھے میرا بیٹا واپس دے دے‘۔ یہ اس بے بس ماں کی پکار تھی جس کے اٹھائیس سالہ بیٹے محمد طارق انصاری کی جان بھی اسی بم دھماکہ میں چلی گئی جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب دو سو تک پہنچ چکی ہے۔
طارق کی والدہ سلمٰی بانو کو بدھ کی دوپہر پتہ چلا کہ ان کا بیٹا بھی ممبئی کے بم دھماکوں کی نذر ہو چکا ہے۔ منگل کو جب بم دھماکے ہوئے اور رات دیر تک طارق گھر نہیں پہنچا تو پڑوسیوں کو فکر ہوئی۔
ممبئی میں ان کے رشتہ دار اور منگیتر ثانیہ کے گھر والوں نے بھی فون پر طارق سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ سب طارق کو تلاش کرنے نکلے۔ ممبئی کے ہر ہسپتال میں تلاش کیا لیکن کہیں بھی طارق کا پتہ نہیں چلا۔
ستم ظریفی دیکھیئے کہ سب نے کے ای ایم ہسپتال کے مردہ خانے میں بھی تلاش کیا لیکن ان لاشوں کے درمیان انہیں طارق کی لاش دکھائی نہیں دی۔ لاشوں کے چہرے بری طرح مسخ تھے یا وہ اسے ان لاشوں میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ ایک امید باقی تھی کہ یہاں نہیں وہ شاید کسی وارڈ میں زیرِ علاج ہو لیکن طارق پہلے ہی رات سے اسی ہسپتال کے مردہ گھر میں تھا۔
طارق اتر پردیش کے شہر پرتاپ گڑھ کے عاشق کا بیٹا تھا۔ طارق کے والد کی وہاں چھوٹی سے دکان تھی جس میں گھر کا گزارہ نہیں ہو سکتا تھا۔ آنکھوں میں ایک اچھی خوشحال زندگی کے خواب سجائے طارق کمانے کے لیئے ممبئی چلا آیا۔
یہاں آ کر اس نے ٹاٹا کمپنی میں ملازمت بھی حاصل کر لی۔ مستقل ملازمت ملنے کے بعد بوڑھے والدین کے دل میں طارق کے سر سہرا دیکھنے کا ارمان جاگا اور انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی طے کر دی۔ اسی سال دسمبر میں اس کی شادی ہونے والی تھی لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔
![]() | |
| طارق کا چھوٹا بھائی |
میں خاموشی سے ایک طرف ہو گئی۔ ان کے اس سوال کا آخرکیا جواب دیتی؟ اور میں ہی کیا کوئی بھی طارق کی والدہ کے ساتھ ساتھ اس کی منگیتر ثانیہ کی جانب دیکھے بھی تو کس طرح کہ وہ اپنے منگیتر کو سہرے میں دیکھنے کی بجائے اب کفن میں دیکھے گی۔