Wednesday, 12 July, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ممـبئی میں گزشتہ رات ہونے والےبم دھماکوں کے بعد خدشات ظاہر کیۓ جارہے تھے کہ کہیں ممبئی فرقہ واریت کا شکار نہ ہو جائے تاہم ان خدشات کے برعکس شہر کی زندگی پھر معمول پر آرہی ہے اور حکومت نے بار بار عوام سے امن و امان قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ملک کے تقریباً سبھی سیاسی رہنماؤں نے ممبئی بم دھماکوں کی سخت مذمت کی ہے۔تاریخی طور پر ممبئی فرقہ وارانہ فسادات کے لیۓ جانا جاتا ہے۔
انیس ترانوے ميں بھی ممبئی میں کئی بم دھماکے ہوئے تھے اس میں تقریباً ڈھائی سو افراد ہلاک ہوگۓ تھے اور ان دھماکوں کے بعد فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے تھے۔
متحدہ ترقی پسند اتحاد کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاسر اؤ دیشمکھ اور مرکزي وزیر داخلہ شوراج پاٹل سے ریاست میں حفاظت کے انتظامات سخت کرنے کو کہا ہے ۔ انکا کہنا تھا " ممبئی میں ہونے والے دھماکے بے حد افسوس ناک ہیں۔ ایسے حالات میں پورے معاشرے کو ایک ساتھ آنا ہوگا اور حملہ واروں کے حوصلے پست کرنے ہونگیں"۔
حزب اختلاف کے رہنما ایل کے آڈوانی نے منگل کے روز ممبئی کا دورہ کیا تھا اور ہسپتال میں داخل لوگوں سے ملاقات کی تھی ان کا کہنا تھا کہ’ میں نے دیکھا ہے کہ ممبئی میں اس وقت میں ہر انسان ایک دوسرے کی مدد کرنے میں لگا ہوا ہے۔ میں نے ممبئی کے پولیس کمشنر سے حالات کی ہر منٹ خبر دینے کو کہا ہے۔ اس حالات میں حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
فی الوقت ملک بھر میں ان دھماکو ں کے تذکرے ہو رہے ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں حکومت کسی بھی گروپ پر ان دھماکوں کا الزام لگانے کے بجائے امن و امان قائم کرنے میں مصروف ہے۔
مہاراشٹر کے پولیس کمشنر مسٹر اے این رائے کا کہنا تھا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور ’فی الوقت ہمارا مقصد حالات کو قابو میں رکھنا ہے۔‘
وزیر داخلہ شوراج پاٹل کا کہنا تھا کہ ’ ہم حملوں سے متعلق صحیح معلومات جمع کر رہے ہیں۔ پوری تفتیش کے بغیر حکومت کسی کو بھی حملوں کا ذمہ دار نہیں ٹھرا سکتی۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ حفاظت کے سارے انتظامات کریں گے لیکن ’نیشنل الرٹ‘نہیں کریں گے۔
دھماکوں کے ایک دن بعد حکومت اور انتظامیہ کی پوری توجہ حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے لوگوں کو راحت پہچانا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ حملوں کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے پیچھے مقصد کیا تھا؟
حکومت کے ذمہ دارانہ رویے اور عوام کی قوت برداشت کے سبب ممبئی میں زندگی معمول پر آرہی ہے۔ ریل گاڑیاں پھر سے دوڑ رہیں ہيں اور عوام ان میں سفر بھی کر رہی ہے۔