Sunday, 02 July, 2006, 12:46 GMT 17:46 PST
گوہر نزیر شاہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، سرینگر
’دروازے کی آہٹ سن کر اس کی طرف دھیان گیا
آنے والی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے‘
سرینگر کے عبدالرشید بیگ چھ ستمبر 1997 سے اس شعر کی سراپا تصویر بنے نظر آرہے ہیں۔ تھکن سے چور اور مایوسی سے نڈھال عبدالرشید اور ان کی اہلیہ نے اپنے جواں سال لاپتہ بیٹے کی تلاش میں دن رات ایک کر دیئے۔ مگر ان کے آہ و نالے صدا بہ صحرا ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ کہانی صرف ان لاچار اور عمر رسیدہ والدین کے لخت جگر فیاض احمد بیگ کی نہیں بلکہ تقریًبا ان ہزاروں نوجوانوں کی بھی ہے جو ہندوستان کے زير انتظام کشمیر میں گزشتہ سترہ برسوں کے پر آشوب عہد کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر یا تو غائب کر دیئے گئے یا پھر غائب ہو گئے۔
فیاض احمد کے والد عبدالرشید نے مسلسل نو برسوں تک اپنے بیٹے کی لاحاصل تلاش کی۔ ’ہر کونا چھان مارا ، ہر دروازے پر دستک دی ، پیر و فقیر کے پاس گئے، وزراء سے منتیں کیں، سرکاری بندوق برداروں کو پیسے دیئے، حریت کانفرنس سے درخواستیں کیں اور جب سوائے مایوسی کے کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو آخر کار ایک کتاب لکھ ڈالی۔
’حراستی گمشدگی اور بے پرواہ حکمران‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی یہ کتاب ایک لاچار باپ کی اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کی ایک ایسی درد بھری داستان ہے جسے پڑھ کر آنکھ سے بے اختیار آنسو پھوٹ پڑتے ہیں۔
![]() | |
| عمر رسیدہ والدین کا گمشدہ لخت جگر فیاض احمد بیگ |
چوالیس صفحات پر مشتمل اس کتاب میں عبدالرشید نے ہر وہ بات لکھی ہے اور ہر اس مصیبت کا ذکر کیا ہے جو انہیں اپنے بیٹے کی تلاش میں اٹھانا پڑی ہے۔
فیاض کشمیر یونیورسٹی کے سینٹر آف سنٹرل ایشین سٹڈیز میں بطور کیمرہ مین ملازم تھے۔ چھ ستمبر بروز ہفتہ 1997 فیاض صبح کے نو بجے اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر حسب معمول کام پر یونیورسٹی کی جانب نکلے۔ یونیورسٹی کی جانب سے شائع کیئے گئے نوٹس کےمطابق دن کے ساڑھے بارہ بجے سینٹر کے ڈائریکٹر اور باقی سٹاف کو اطلاع ملی کہ فیاض کو ایس ٹی ایف کے اہلکاروں نے یونیورسٹی کے جنوبی گیٹ سے حراست میں لے لیا ہے۔
اس دن سے آج تک فیاض کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔
![]() | |
| ’پیسہ پانی کی طرح بہادیا گیا مگر سب بے سود‘ |
تاہم انسانی حقوق کے کمیشن نے رپورٹ میں درج ایس ٹی ایف کے اس بیان کو رد کرتے ہوئے اسے بناوٹی قرار دیا اور ساتھ ہی اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف اقدام کرنے اور متاثرین کے حق میں پانچ لاکھ روپے کی امداد بطور معاوضہ دینے کی بھی سفارش کی۔
فیاض یونیورسٹی میں ملازمت کے علاوہ دور درشن کیندرسرینگر کے ساتھ بھی کام کرتے تھے اور انڈیا انٹرنیشنل فوٹوگرافک کونسل کے رکن بھی تھے۔ متاثرہ والدین نے بیٹے کو تلاش کرنے میں کوئی دقیقہ فردگذاشت نہ رکھا۔پیسہ پانی کی طرح بہادیا گیا مگر سب بے سود۔
![]() | |
| مایوس باپ اب بھی امید کی ایک آخری کرن کے سہارے پر ہیں |
کسی کے مرنے کے بعد اس سے لواحقین کی ڈھارس بندھائی جاسکتی ہے مگر غائب کیئے گئے افراد کے متاثرین کا اضطراب بیان کی حد سے باہر ہے۔ مریم بانو مزید کہتی ہیں کہ ’اب اگر حکومت ہمیں فیاض کے مرنے کی خبر سناتی تو ہم اس کی آخری رسومات انجام دے کر اپنے دل کو سمجھا لیتے، مگر افسوس‘۔
آگر چہ صورتحال امید افزا نہیں مگر ماں کے ممتا بھرے دل کا آخری سہارا اور ہر طرح سے مایوس باپ اب بھی امید کی ایک آخری کرن کے سہارے پر ہیں۔
اسی امید کا اظہار کرتے ہوئے فیاض کے والدین کہتے ہیں کہ ’ابھی بھی انتظار ہے ہمیں اور ان کے ساتھ منتظر ہیں وہ ہزاروں مائیں، نصف بیوائیں، جن کے بچے اور شوہر ہمیشہ کے لیئے گمشدگی کے اندھیروں میں یا تو گم ہوگئے یا پھر گم کردیئے گئے ہیں۔