Saturday, 01 July, 2006, 13:46 GMT 18:46 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام حیدرآباد
حیدرآباد، ہندوستان میں ذیابیطس کا دارالخلافہ
حیدرآباد دکن کی ایک اور خاص بات ہے جو حیدرآبادیوں کیلیئے ایک بری خبر سے کم نہیں ہے اور وہ یہ کہ اس شہر کو ہندوستان میں ذیابیطس یا شوگر کے دارالخلافہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریض اسی شہر میں رہتے ہیں۔ اب اس مرض کے دائرے میں صرف حیدرآباد ہی نہیں بلکہ پوری ریاست آندھرا پردیش بھی شامل ہوگئی ہے۔
آسٹریلیا کے ایک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ریاست کی 30 برس سے زیادہ عمر کی 13 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے۔ جارج انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ہیلتھ نے سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کی صورتحال کتنی تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دیہات میں ہندوستان کو کس قسم کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
![]() | |
| ریاست کی 13 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے |
خلا میں نئی چھلانگ
خلائی میدان میں تیزی کے ساتھ اپنی پیش رفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہندوستان جولائی کے مہینے میں اپنا اب تک کا سب سے وزنی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے والا ہے۔ دو اعشاریہ دو ٹن وزنی یہ مواصلاتی مصنوعی سیارہ آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ جزیرے سے چھوڑا جائے گا۔ اس سے قبل اس طرح کے ہندوستانی سیٹلائٹ فرنچ گیانا سے چھوڑے گئے تھے لیکن اب کی بار ہندوستان کی ہی سرزمین سے یہ مصنوعی سیارہ چھوڑ کر ہندوستانی ماہرین اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ سیٹلائیٹ لانچنگ کی دو ارب ڈالر کی عالمی منڈی میں ہندوستان بھی ایک بڑا حصہ حاصل کرسکے۔
![]() | |
| اسرو 2008 میں چاند پر مشن بھیجے گا |
اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن
کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی بدعنوانیوں کی روک تھام کرسکتی ہے؟ کم از کم آندھرا پردیش کی حکومت یہی سمجھتی ہے۔ چنانچہ ریاستی حکومت نے نجی شعبے کی ایک سرکردہ کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروس کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویب سائیٹ شروع کی ہے جو ایک سرکاری سکیم پر خرچ ہونے والی ہر پائی کا حساب دے گی۔ دیہی علاقوں کے غریبوں کو روزگار کی ضمانت کی جو سکیم گزشتہ فروری میں شروع ہوئی تھی اس کی مکمل تفصیل اس ویب سائیٹ
(http://nrega.ap.gov.in) پر فراہم کردی گئی ہے۔ دیہی علاقوں کے غریب خاندانوں کو ہر برس ایک سو دن کے کام یا پھر بے روزگاری الاؤنس کی قانونی ضمانت دینے والا یہ پروگرام آندھرا پردیش کے 13 ہزار دیہاتوں میں روبہ عمل لایا جارہا ہے۔
![]() | |
| یہ ویب سائیٹ سرکاری سکیم پر خرچ ہونے والی ہر پائی کا حساب دے گی |
یہ اب تک کی اس صورتحال سے بالکل مختلف ہے جس میں ٹھیکے دار من مانی کیا کرتے تھے اور مزدوروں کی اجرت کے نام پر خود پیسے ہڑپ کرجاتے تھے۔ یہ سرکاری اسکیموں کو روبہ عمل لانے میں اپنی طرح کا ایک انوکھا اور اولین تجربہ ہے۔