صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
مہنگائی اور ارب پتی افراد میں اضافہ
انڈیا میں اس ہفتے مہنگائی کا زور تھا اور سبھی کی مشترکہ پریشانی بھی یہی ہے۔ کہا جاتا تھا کہ زراعت ملک کی معیشت کا اصل منبع ہے، لیکن اب یہ خود کفیل ملک گیہوں، دال اور چینی کی درآمد پر مجبور ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کیا جاسکتا لیکن اناج باہرسے منگانے سےمہنگائی پر کچھ تو قابو پایا جاسکے گا۔
خوش آئند خبر یہ ہے کہ ملک میں ملینرز یا ارب پتی افراد کی تعداد میں تیزی اضافہ ہورہا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک میں سات سو ملین سے زیادہ لوگ غربت میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف بیس فیصد ملینئرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دو ہزار چار میں ان کی تعداد ستر ہزار تھی جو دو ہزار پانچ میں تراسی ہزار ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں بھارت دنیا میں صرف جنوبی کوریا سے پیچھے ہے جس کی ترقی کی رفتار اکیس فیصد سے بھی زیادہ ہے اور تیسرے نمبر پر روس ہے۔
اگر کسی کے پاس دس لاکھ امریکی ڈالر یا اس کے برابر کی مالیت ہو تو وہ ملینئر کہلاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں ہر سو افراد میں سے ایک ملینئر ہے جبکہ بھارت میں تیرہ ہزار میں سے ایک شخص ملینئر ہے۔
بیویاں کرائے پر ملتی ہیں
![]() | |
| بعض غریب قبائلی عورتیں اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیئے یہ کام کرنے پر مجبور ہیں |
حال ہی میں پولیس نے ایک واقعے کی تفتیش کی ہے، جس کے مطابق پچھڑی ذات کے ایک شخص نے اپنی بیوی کو پٹیل خاندان کے ایک فرد کو آٹھ ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھا تھا۔ یہاں کے بعض علاقوں میں اعلٰی ذات کے لوگوں کی شادیاں نہیں ہوپاتی ہیں اور قبائلیوں میں شدید غربت کے سبب یہ اس عمل کو بڑھاوا ملتا ہے۔
چاچانہرو آؤٹ
![]() | |
| بچوں پرغیر ضروری بوجھ کم کرنے کیلیئے نہرو کا مضمون نصاب سے نکالا جارہا ہے |
کانگریس پارٹی اس قدم سے سخت ناراض ہے اس کے مطابق یہ قدم اس لیئے اٹھایا گیا ہے کیونکہ وہ کانگریس پارٹی کے رہنما تھے۔ لیکن ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں پرغیر ضروری بوجھ زیادہ ہے اس لیئے یہ اقدامات کیئے جارہے ہیں اور جلد ہی کلاس چھ کی کتابوں سے پنڈٹ نہرو کی بیوی کملا نہرو پر مبنی مضمون بھی ہٹادیا جائے گا۔
لالو برانڈ آئیکون
![]() | |
| لالو برانڈ آئیکون، مصنوعات کی کامیاب تشہیر |
ویسے لالو کے گڈے گڑیا اور ’سافٹ ٹوائز‘ پہلے ہی بہت مقبول تھے لیکن اب بہار کے گاؤوں میں ’لالو پشو آہار‘ کے نام سے مویشیوں کا چارا کافی مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ’لالو چلے سسرال‘ کے نام سے بعض خوبصورتی کو نکھارنے والی اشیاء بھی لانچ کی گئی ہیں اور وہ بڑی مقبول ہوئی ہیں۔ کپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ فی الوقت ان اشیاء کو بہار میں ہی لانچ کیا گيا ہے اور جلد ہی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی متعارف کروایا جائے گا۔
’کتے کم کیئے جائیں‘
![]() | |
| انتظامیہ کتوں کو دوسرے مقام پر شفٹ کرنے پر غور کر رہی ہے |
تنظیم کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے اور انتظامیہ کتوں کو دوسرے مقام پر شفٹ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تنظیم نے سرکار سے یہ بھی کہا ہے کہ کتوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کی کوئی دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے اس لیئے حکومت کو چاہیے کہ کتوں کی آبادی کم کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔