Saturday, 24 June, 2006, 08:35 GMT 13:35 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد دکن
نکسلی رہنماؤں کی ہلاکتیں
آندھرا پردیش میں پولیس کے ہاتھوں بائیں بازو کی ممنوعہ انتہا پسند تنظیم سی پی آئی ماؤسٹ کے چوٹی کے رہنماؤں کی ہلاکت کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جو بچے ہوئے ہیں ان پر بھی پولیس کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس سب سے بڑی ماؤسٹ تنظیم کے دس بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔یکے بعد دیگرے بڑے لیڈروں کا مارا جانا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ پولیس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور وہ عام کارکنوں کو مارنے کی بجائے تنظیم کے بڑوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
تازہ سنسنی خیز واقعہ میں ہی تنظیم کا ایک مرکزی لیڈر پولیس سے بال بال بچا ہے۔ سدھاکر عرف ٹی ایل این چلم آندھرا۔اڑیسہ سرحدی کمیٹی کا ریاستی سیکریٹری اور چوٹی کے ماؤسٹ رہنما ہیں۔ پولیس کے مطابق وزیانگرم ضلع کے ایک گاؤں میں ایک چھاپے میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران سدھاکر ان کی گرفت میں آ گیا لیکن بعد میں وہ بچ نکلا جبکہ ماؤسٹوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے سدھاکر کو زخمی حالت میں گرفتار کیا ہے اور اب وہ انہیں ایک فرضی جھڑپ میں مارنے کی سازش تیار کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ اور پولیس تردید کررہے ہیں کہ سدھاکر ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔ سدھاکر کی والدہ نے ریاستی ہائی کورٹ میں پولیس کے خلاف حبس بے جا کی ایک درخواست دی ہے اور ہائیکورٹ نے پولیس سے کہا ہے کہ اگر اس نے سدھاکر کو گرفتار کیا ہے تو وہ اسے عدالت میں پیش کرے۔ سدھاکر وہی رہنما ہیں جنہوں نے اکتوبر 2004 ء میں ریاستی حکومت کے ساتھ امن بات چیت میں حصہ لیا تھا۔
انٹیلجنس کی کامیابی یا کچھ اور
ڈاونچی کوڈ۔ تاحال ایک معمہ
مفت ٹیلی ویژن بھی ’مہنگے‘
![]() | |
| تمل ناڈو حکومت کو انتخابی وعدہ نبھانا مہنگا پڑ رہا ہے |