Friday, 23 June, 2006, 14:22 GMT 19:22 PST
بردہ فروشی یا انسانوں کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے انڈیا میں دیہاتوں کے مکھیاؤں اور سر پنچوں سے کہا ہے کہ وہ روزگار کی تلاش میں گاؤں سے کہیں باہر جانے والوں کے کوائف رکھا کریں تا کہ انہیں لاپتہ ہونے کی صورت میں تلاش کیا جا سکے۔
دلی سے گیتا پانڈے کی اطلاع کے مطابق انڈیا سے ہر سال ہزاروں عورتوں اور بچوں کو سمگل کیا جاتا ہے اور انجام کار ان کا سفر جسم فروشی پر ختم ہوتا ہے۔
بردہ فروشی کا نشانہ والے بچوں سے بھیک بھی منگوائی جاتی ہے اور انہیں بعض صنعتوں میں جبری مشقت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
دہلی میں یو این ڈی پی کے انسداد انسانی سمگلنگ پروجیکٹ کی سربراہ مونا مشرا کا کہنا ہے کہ سمگلنگ میں ملوث لوگوں کو ناکام بنانے کے لیئے ہر وقت اور ہر لمحہ چوکس رہنے اور سرگرم ہونے کی ضرورت ہے اور عام لوگ یہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پروجیکٹ کے تحت تیس ہزار دیہاتوں میں نوجوان مردوں اور عورتوں کو نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ریکارڈ رکھنے کی تربیت دینے کا کام شروع کیا جارہا ہے۔
یہ لوگ انسانی سمگلنگ کرنے والوں پر بھی نظر رکھیں گے اور اگر ان کے علاقوں سے کوئی لاپتہ ہو گا تو اس کی اطلاع حکام کو دیں گے۔
انڈیا کے دیہی علاقے میں افلاس اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث ہزارہا لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی کر جاتے ہیں جن میں سے اکثر سمگلنگ کرنے والے ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو انہیں معقول معاوضے دلانے کا لالچ دیتے ہیں اور پھر یا تو ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے یا جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔