Tuesday, 20 June, 2006, 11:04 GMT 16:04 PST
ریاض مسرور
سری نگر
سرینگرمیں دوسری گول میز کانفرنس کے بعد ایسے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی وجہ سے حکومت اور فوج کے خلاف عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے۔
زیادتیوں کے خلاف علیحدگی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہند نواز گروپ بھی منظم احتجاج کر رہے ہیں۔ چوبیس اور پچیس مئی کو سرینگر میں منعقدہ گول میز کانفرنس کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ کا وہ اعلان عوامی حلقوں میں کافی سراہا گیا تھا جس میں انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوناقابل برداشت بتایا تھا۔ ڈاکٹر سنگھ نے واضح کیا تھا کہ حکومت ہند اس سلسلے میں’زیرو ٹالرنس‘ کے اصول کی پابند رہے گی۔
اب مزید انتظار نہیں |
ضلع کپواڑہ میں فی الوقت سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران یہاں دو مرتبہ احتجاجی مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں تین طلباء اور ایک شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ پہلا واقعہ قصبہ بانڈی پورہ میں سکول کے 24 بچوں کی غرقابی کے بعد اس وقت پیش آیا جب جھیل وولر میں ہندوستانی بحریہ سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف لوگوں نے مظاہرہ کیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بحریہ نے نہتے مظاہرین پر فایرنگ کر کے دو کمسن طلبا کو ہلاک کر دیاتھا۔ فوج نے واقعہ کی تردید کی ہے۔ اس کے بعد کپواڑہ میں مسجد کی بے حرمتی کا واقعہ حالات میں مزید کشیدگی کا سبب بناہے۔ فوج کے ہاتھوں مسجد کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف زرہامہ گاؤں سے دس ہزار لوگوں نے جلوس نکالاتھا اور فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیاتھا۔
![]() | |
| ضلع کپواڑہ میں فی الوقت سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے |
وزیر اعلیٰ غلام نبی آ زاد نے ان واقعات کو فوج کی جانب سے دفاع میں کی گئی کارروائی بتایاہے۔ حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر اور انڈیا کے نائب وزیر خارجہ رہ چکے عمر عبد اللہ نے زیادتیوں کے خلاف لال چوک میں احتجاجی مارچ کیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم نے ایسا پہلی بار دیکھا کہ فوج احتجاج کرتے بے قصور بچوں پر گولیاں برسائے اور انہیں جان سے مار دے‘۔
گول میز کانفرنس کے بعد دیگر علاقوں میں بھی عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ جنوبی قصبہ ترال میں گزشتہ ہفتے لوگوں نے سہ روزہ فوجی محاصرہ توڈ دیا ہے ۔ اسی طرح وسطی ضلع بڈگام میں مشتعل ہجوم نے نیم فوجی دستے کا بنکر منہدم کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار موبائل فون کے ذریعہ لڑکیوں کی عکسبندی کر رہے تھے۔ سی آر پی ایف کے ترجمان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
جموں کشمیر سے فوجی انخلاء کے حامی میرواعظ عمر فاروق کا ماننا ہے کہ امن کے عمل کی سست رفتاری سے اس پر لوگوں کا اعتبار اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ میرواعظ عمر جو حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ’لوگ دراصل فوجی موجودگی کے خلاف ہیں۔ ان کو یقین تھا کہ امن عمل سے بہتری آئے گی۔ لیکن نئی دلی نے فوجی انخلاء کی تجویز مسترد کر دی اور یہ سب اسی کا نتیجہ ہے‘۔
![]() | |
| امن کے عمل کی سست رفتاری سے اس پر لوگوں کا اعتبار اٹھنے کا اندیشہ ہے |
ڈاکٹر حسین کہتے ہیں ’یہ تو خطرناک ٹرینڈ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انیس سو نواسی کی حالت ہے۔ جب نہتے لوگ فوجی بنکروں پر پتھر ماریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید انتظار کے لئے تیار نہیں ہیں‘۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے اس پس منظر میں یہ بیان دیا ہے کہ امن کا عمل آگے نہ بڑھا تو ہندوستان اور پاکستان دوبارہ ٹکراو کے راستے پر آجائیں گے‘۔