Thursday, 15 June, 2006, 05:45 GMT 10:45 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی منتظمہ کمیٹی اور خدام نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ مزار کے احاطے میں خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تجویز ضرور پیش کی گئی تھی۔
خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر خدام کی انجمن کے سیکرٹری سرور چشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض خدام کی طرف سے یہ تجاویز آئی ہیں کہ جمعہ کے روز زیادہ لوگوں کے سبب ’احاطہ نوری‘ بھی نمازیوں سے بھر جاتا ہے جہاں خاص طور پر خواتین عبادت کرتی ہیں اس لیے اس خاص دن پر عورتوں کے لیے علیحدہ انتظام کردیا جائے تاکہ مرد و خواتین خلط ملط نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ صرف تجویز ہے اور اس پر ابھی کوئی فیصلہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔‘
خدام انجمن کا کہنا ہے کہ بھیڑ کے سبب خواتین کے لیے صرف علیحدہ انتظام کرنے کی بات کہی گئی ہے اور وہ بھی صرف جمعہ کے روز۔ ’پابندی کی بات پوری طرح بے بنیاد ہے۔‘ ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں شائع ہورہی تھیں کہ خواتین پر پابندی عائد کردی جائےگی۔
سرور چشتی کا کہنا تھا کہ مزار کے احاطے میں داخلے یا مزار کی زیارت کے لیے خواتین پر پابندی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔’بعض لوگوں نے محض تنازع کھڑا کرنے کے لیے اس طرح کی حرکت کی ہے اور میڈیا نے بھی اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔‘
سرور چشتی کا کہنا تھا کہ کئی بارخاص مواقع پر مستورات کے لیے علیحدہ انتظام کیا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتاجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معین الدین چشتی کے مزار پر بلا لحاظ جنس اور مذہب و ملت سبھی کو زیارت کی آزادی ہے اور وہ باقی رہے گی۔