الطاف حسین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں فوج کی مبینہ طور پر ایک مسجد کی بے ادبی کرنے اور عام شہریوں پر پولیس فائرنگ کے خلاف احتجاج کے لیئےہڑتال سے وادی میں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ہ،تاک کی یہ کال علحیدگی پسند اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر وائظ عمر فاروق کی جانب سے دی گئی تھی۔ ہڑتال کے دوران وادی کی بیشتر دکانیں بند رہیں اور مقامی ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔
ہفتے کے روز سے پولیس اور فوج کی گولیوں سے اب تک دو عام شہری ہلاک ہو چکے ہيں۔
لیکن عام شہریوں کا احتجاج جاری ہے اور منگل کے روز بھی ضلع کے ترہگام علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑک پر اتر آئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے ریاستی پولیس کو آنسوں گیس کا استعمال کرنا پڑا ہے۔
حریت کے ایک ترجمان کے مطابق ’فوج کی اس طرح کی کارروائی وزیر اعظم کے اس بیان کی دھجّیاں اڑاتی ہے جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘