Saturday, 10 June, 2006, 16:36 GMT 21:36 PST
شہاب فضل
لکھنو
ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر بنے عارضی مندر پر حملے کے پانچ ملزمان کے مقدمے کی سماعت اب فیض آباد ضلع سے باہر کی جائے گی۔
فیض آباد کے سیشن جج نے ملزمان کا مقدمہ دوسرے ضلع میں منتقل کرنے کی سفارش کی ہے۔
جج نے اس بابت ایک مکتوب الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجا ہے تا کہ ان ملزمان کی پیروی ہو سکے۔
اس سلسلے میں ملزمان نے بھی ایک عرضی ہائی کورٹ میں داخل کر رکھی ہے۔
پولیس نے شکیل احمد، نسیم احمد، آصف، محمد عزیز اور ڈاکٹر عرفان کو گزشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر اُن پانچ حملہ آوروں کی مدد کا الزام ہے جو عارضی مندر پر حملے کی کوشش میں سلامتی دستوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔
اس معاملے کو گیارہ ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ان ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
یہ مقدمہ فیض آباد کی سیشن کورٹ میں ہے۔ لیکن فیض آباد بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے ایودھیا پر حملہ آور ملک کے دشمن ہیں اس لیے ان کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
بار کا موقف اتنا سخت ہے کہ اس نے باہر کے کسی دوسرے وکیل کو بھی ان کی پیروی نہیں کرنے دی ہے۔ کئی وکلاء نے کوشش کی لیکن سکیورٹی کے پیش نظر بالآخر سب نے انکار کردیاہے۔
عدالت نے اس پورے معاملے میں قانونی مدد کرنے والی ریاستی انتظامیہ سے تعاون کی اپیل کی تھی لیکن جب اس نے بھی منع کردیا تو اب اسے دوسرے ضلع میں منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پانچوں ملزمان تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تفتیش مکمل کرلی ہے اور چارج شیٹ تیار ہے لیکن وکیل نہ ملنے کے سبب کاروائي آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔
ملزمان فی الحال الہ آباد کی نینی سینٹرل جیل میں قید ہیں اور ان کی عدالتی تحویل ایک بار پھر 27 جون تک بڑھا دی گئی ہے۔