Saturday, 10 June, 2006, 13:49 GMT 18:49 PST
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محبوب نگر ضلع میں دو متحارب گروہوں کے درمیان تنازع میں ایک ہی خاندان کے تیرہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔
ضلع کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کی صبح پیش آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں پانچ خواتین اور چار بچے شامل تھے۔
ریاست کے وزیر اعلٰی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیق کے لیئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
دریں اثناء آسام ہی میں مشتبہ علیحدگی پسند باغیوں نے بم دھماکے کیئے ہیں جن میں سات افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکوں میں تیل اور گیس کی پائپ لائن اور ریل کی پٹڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ریل کی پٹڑی کی مرمت کے لیئے حکام کو عارضی طور پر تمام ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کرنا پڑی ہے۔
ایک دھماکہ ہفتہ کی صبح آسام کے دارالحکومت گواہٹی کے ایک مصروف بازار میں ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا سلسلہ جمعرات سے شروع ہوا تھا جب نامعلوم افراد نے آسام کے چار مغربی اور مرکزی قصبوں میں دستی بم پھینکے۔ ان واقعات میں ایک تاجر ہلاک اور تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
پولیس دھماکوں کی ذمہ داری یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ نامی تنظیم پر عائد کرتی ہے۔ تنظیم نے جمعرات کے دھماکوں کے الزامات کی تو تردید کی ہے تاہم جمعہ کے دھماکوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے نمائندوں سے اس ماہ کے آخر میں مذاکرات کرے گی۔