Friday, 09 June, 2006, 06:34 GMT 11:34 PST
سبیر بھومک
بی بی سی نیوز
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ دھماکہ ریاست کے دارالحکومت گوہاٹی کے ایک پر ہجوم بازار میں ہوا۔
دھماکے سے تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک شخص ہسپتال لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگیا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی آسام میں چار مختلف بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کے سربراہ ڈی این دت نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جمعرات کو ہونے والے دھماکے چار دستی بموں سے کیئے گئے جو نامعلوم افراد نے مختلف بازاروں میں پھینکے۔
وسطی اور مغربی آسام میں جمعرات کو لگنے والے ہفتہ وار بازاروں میں عموماً لوگوں کی بڑی تعداد خریداری کرتی ہے۔ یہ دھماکے گولک گنج، نوگاؤں، دھبری اور منگول ڈوئی کے علاقوں میں ہوئے تھے اور کسی گروہ نے تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ریاستی پولیس کے انٹیلجنس کے شعبہ کے سربراہ کے مطابق جن علاقوں میں دھماکے ہوئے وہاں علیحدگی پسند ’یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام‘ کے حامی متحرک ہیں تاہم باغی گروپ نے دھماکوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
فرنٹ آج کل ایک دوسری عوامی کمیٹی کی وساطت سے بھارتی حکومت امن مذاکرات کر رہا ہے۔ مذکورہ کمیٹی کے ارکان اور حکومت کے درمیان دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک لبریشن فرنٹ نے باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تـجزیہ نگاروں کے مطابق چونکہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے اس لیے فرنٹ دلبرداشتہ ہوتا نظر آرہا ہے۔
ریاست آسام میں سنہ 1979 سے باغی بھارت سے ریاستی آزادی کے لیئے لڑ رہے ہیں اور اس دوران دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔