Tuesday, 06 June, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
سر پہ چھت نہیں، پیٹ میں دانہ نہیں اور کمر میں قوت بھی نہیں لیکن فکر صرف اس بات کی کہ مرنے کے بعد جلا نہ دی جائیں۔
دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی ہے اور رشتہ داروں نے گھر میں جگہ دینے سے منع کر رکھا ہے۔ یہ ہیں مظفرپور کی حفیظاً جو اپنا نام مسماۃ ( بیوہ) حفیظاً بتاتی ہیں۔
ایک لاٹھی کے سہارے جیون کا زہر پینے کا حوصلہ رکھنے والی حفیظاً مہدی حسن چوک پر رہتی ہیں۔ان کے پاس متاع زندگی کے نام پر محض دو بورے ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان میں دو ’کھیندڑا( بستر) ہیں۔ ساتھ میں ایک لاٹھی اور لوٹا بھی ہے۔
گھر انکا ریوا روڈ میں تھا۔شوہر کلکتہ میں ’ٹرام وے‘ میں کام کرتے تھے۔ان کا انتقال ہو گیا تو سوپ اور دیگر سامان بیچ کر بچوں کی پرورش کی۔دو تین سال سے انکی آنکھیں بیکار ہو گئی ہیں۔ اب وہ بھیک مانگ کر زندگی کاٹ رہی ہیں۔
انکا الزام ہےکہ بیٹے کی شادی ہو گئی تو بہو نےگھر سے نکال دیا۔ایک بیٹی بھی تھی۔ حفیظاً کہتی ہیں کہ وہ سو رہی ہے۔ مگر کہاں؟ جواب دیتی ہیں’ (قبر) قبرستان میں‘۔ یہ جواب دینے کے دوران انکی آنکھوں سے جاری پانی آنسو ہے یا بیماری کی نشانی، پتہ لگانا مشکل ہے۔
حفیظاً بتاتی ہیں کہ پہلے وہ اس پُل کے نیچے رہتی تھیں جس کے اوپر سے موٹر گاڑی چلتی ہیں اور نیچے ریل۔وہیں ایک بھمبھاڑ (خولی نما جگہ) میں رہتی تھیں۔
مگر وہ وہاں سے ہٹ کیوں گئیں؟ حفیظاً کہتی ہیں کہ وہاں ملاح (ہندو ماہی گیر) رہتے ہیں۔ کسی نے ان سے کہہ دیا کہ وہاں مریں گی تو انہیں جلا دیا جائے گا۔ تو کیا ہوگا؟ حفیظا ً کا جواب تھا’ ببُووا، ہمرے ابا مرید تھے، ہم ہوں مرید ہیں، کیسے جلا دیگا؟
حفیظاً جب بیٹھ کر سڑک پار کر رہی ہوتی ہیں تو کم ہی لوگ انہیں سہارا دینے کو آگے آتے ہیں۔ مگر حفیظاً تو پورے ’پنچ‘ کے لیئے دُعایں کرتی ہیں۔
حفیظاً کہتی ہیں کہ رات بھر نیند نہیں آتی۔’مچھر کاٹتے ہیں، کتے بھونکتے ہیں۔بقول حفیظاً وہ تین بجے سے اٹھ کر دُعا شروع کردیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اللہ ’پنچ’ کو دیگا تبھی انہں بھی ملے گا۔
فی الحال حفیظاً ایک دکان کے آگے ٹکی ہوئی ہیں۔ وہ برسات میں کہاں جایں گی؟ انکا جواب ہے’ بابو سب جہاں لے جائیں‘۔
ایک لاچار اور بے یار و مددگار انسان کا انسان پر اس قدر بھروسہ کیسے ہے، اللہ ہی جانے۔