Saturday, 03 June, 2006, 06:12 GMT 11:12 PST
امریکی صدر جارج بش نے منشیات کی سمگلنگ اور نقل وحمل کے الزام کے تحت مافیا ڈان داؤد ابراہیم اور ان کی تنظیم پر امریکہ کے’ کنگ پن‘ ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔
صدر بش کے اس فیصلے کو بین الاقوامی منشیات فروشوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس پابندی سے نہ صرف امریکہ میں منشیات فروشوں کی سرگرمیوں میں کمی آئے گی بلکہ ان سمگلروں کی جانب سے دہشتگردوں کی امداد پر بھی نظر رکھی جا سکےگی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی اس فہرست میں داؤد ابراہیم کے علاوہ ایران اور برازیل سے تعلق رکھنے والے دیگر دو افراد اور میکسیکو کی ایک تنظیم بھی شامل کی گئی ہے۔ امریکہ میں سنہ 2000 میں لاگو ہونے والے اس ’ فارن نارکوٹکس کنگ پن ڈیزگنیشن ایکٹ‘ کے تحت اب تک باسٹھ افراد اور تنظمیوں پر منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔
کنگ پن ایکٹ کا نشانہ اہم بین لاقوامی منشیات فروشوں اور ان کی تنظیموں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت نہ صرف ان افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے کسی بھی مالی مقصد کے لیئے امریکی مالیاتی نظام کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تاہم اس قانون کا اطلاق امریکہ سے باہر نہیں ہوتا۔