Tuesday, 30 May, 2006, 15:40 GMT 20:40 PST
اقوام ِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اب دنیا میں ایڈز سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل جنوبی افریقہ میں ایڈز کے سب سے زیادہ تصدیق شدہ مریض پائے جاتے تھے لیکن اب یہ تعداد انڈیا میں سب سے زیادہ ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایڈز کی پچیس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی بنیادوں پر ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن اس مہلک بیماری کا طویل المدت اثر باقی رہے گا۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ایڈز کے اسّی لاکھ مریض موجود ہیں اور ان میں سے دو تہائی مریض انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ غیر محفوظ جنسی تعلقات ہیں۔
انڈیا کی جنوبی ریاستیں روایتی طور پر اس بیماری سے زیادہ متاثر رہی ہیں تاہم ان علاقوں میں 1990 کے بعد سے ایڈز سے بچاؤ کی خاطر خواہ کوششیں بھی کی گئی ہیں جس کے بعد وہاں اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
![]() | |
| ایڈز کے بارے میں آگاہی کا کلینک |
انڈیا کے صرف دس فیصد سے بھی کم علاقے میں ایڈز سے بچاؤ کے پروگرام پر مکمل عمل ہوا ہے اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ افراد جنہیں ایڈز سے بچاؤ کی معلومات کی فراہمی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ان تک اب بھی اس پروگرام کے ثمرات نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ایڈز کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ تاحال اس بیماری کے خلاف انڈین حکومت کی مہم مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو رہی اور اس کی وجہ وہ قدامت پسند حلقے ہیں جو حفاظتی طریقوں کے استعمال کو جنسی آزاد خیالی سے تشبیہہ دیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ جہاں بھارت کے لیئے باعثِ فکر ہے وہیں اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افریقی ملک زمبابوے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تین برس قبل زمبابوے میں بائیس فیصد لوگ ایچ آئی وی پازیٹو تھے جن کی تعداد اب کم ہو کر بیس فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کمی کی وجہ جہاں عوام کی جانب سے حفاظتی طریقوں کا استعمال ہے وہیں ایڈز کے مریضوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت بھی ہے۔